انسان کامل — Page 14
آنحضرت حاکموں اور بادشاہوں کیلئے کامل نمونہ ہیں پھر آپ محکوم ہی نہ رہے ، بلکہ ایک زمانہ وہ آیا کہ آپ خود بادشاہ ہو گئے اور خدا کے فضل سے ایسی بادشاہت کی کہ ساری دنیا کے بادشاہ آپ کے نمونہ پر چل کر دین و دنیا کی برکات حاصل کر سکتے ہیں۔آپ بادشاہ ہیں۔جس کو چاہیں پکڑی جس کو چاہیں چھوڑیں۔مگر نمازوں اتنے کہ ایک مجرم کو چھڑانے کیلئے آپ کے درباری ، آپ کے مقرب ، حتی کہ آپ کا سب سے پیارا اسامہ سفارش کرتا ہے مگر آپ کہتے ہیں۔کہ اسامه اَشْفَعْ فِي حَدِ مِن حُدُودِ الله " یعنی کیا جس مجرم کے متعلق خدا کا قانون مزا تجویز کرتا ہے۔تو اس کے چھوڑنے کی سفارش کرتا ہے۔پھر فرمایا " لَو سَرَقَتْ فَاطِمَة لَقَطَعْتُ يَدَهَا : کہ یہ مجرم تو دور سے میری برادری کا ہے۔اگر میری لخت جگر فاطمہ چوری کرتی تو میں اس پر بھی حد جاری کرتا۔سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم - پھر بادشاہ سمجھتے ہیں۔کہ ہم لوگوں کی خدمت کے لئے نہیں بلکہ لوگ ہماری خدمت کیلئے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں۔سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِ مُهُمْ " یعنی جسے خدا بادشاہ یا سردار بنادے وہ سمجھے کہ آج " سے مجھے تمام قوم کا جنازہ م بنا دیا گیا ہے۔حضور خود اس قانون کا عملی نمونہ تھے۔کبھی نہیں چاہا کہ لوگ آپ کی بڑائی کریں۔ایک شخص رعب کی وجہ سے کانپتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں تو عرب کی ایک غریب ہوں عورت کا بیٹا ہوں جو غربت کی وجہ سے سوکھا ہوا باسی گوشت بھی استعمال کر لیا کرتی تھی آپ نا پسند فرماتے تھے کہ کسری و قمیصر کی طرح آپ کے دربار میں کوئی شخص آپ کے سامنے کھڑا ہو۔حضور کے روزمرہ کا پروگرام پھر اکثر بادشاہ اپنے کام وزراء اور دوسرے امراء کے سپرد کر کے آپ عیش و عشرت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔مگر ہمارے بادشاہ سارے کام خود کرتے ہیں۔پانچوں نمازیں خود پڑھاتے ہیں۔عیدین اور جمعے خود کرواتے ہیں۔تمام لشکر خود روانہ کرتے ہیں۔خود ہی افسر مقرر کرتے ہیں۔پھر خود ہی ان کے جھنڈے اور علم اپنے ہاتھ سے باندھتے ہیں۔سپاہیوں کا انتخاب پھر ان کے لئے زاور اہ اور ہتھیاروں کا انتظام خود کرتے ہیں۔روانگی کے وقت دور تک ساتھ بھاتے ہیں۔افسروں اور ماتحتوں کو ہرقسم کی ہدایات خود دیتے ہیں۔اکثر لڑائیوں میں خود شریک ہوتے ہیں اور فوج کو خود لڑواتے ہیں۔اه