انسان کامل

by Other Authors

Page 9 of 30

انسان کامل — Page 9

9 تو باپ کئی ماہ پہلے ہی روانہ ہو چکا تھا۔اس نے تو ایک دن بھی بھی اپنے باپ کی محبت نہ پائی۔اس تمر نے تو ایک منٹ کے لئے بھی اپنا شجر نہ دیکھا۔مگر کیا وہ والد سے محروم ہو کر یہ اخلاق ہو گیا ؟ یا کیا آوارہ ہو گیا ؟ یا قوم کی نظروں میں گر گیا۔نہیں اور ہرگز نہیں۔وہ تو ایسا شریف نکلا اور ایسا تربیت یافتہ ہوا کہ دادا اپنے حقیقی بیٹوں سے بڑھ کر پوتے ہے ، اور چا اپنے حقیقی نورچشموں سےبڑھ کر اپنے بھتیجے سے محبت کرتا تھا۔بلکہ تمام جوان بیٹے کنارہ پر بیٹھتے تھے انگر وہ یتیم پوتا، ایسا شائستہ ایسا خو بیوں والا ، ایسی دل غریب عادات رکھنے والا نکلا کہ دادا کے پہلو بہ پہلو بیٹھتا پھر بچا کو دیکھو۔شام کا سفر کرتا ہے کون بیٹا ہے جو باپ کے ساتھ غیر مالک کی سیر کرنا نہیں چاہتا۔مگر چا اگر کسی کو ساتھ لیتا ہے تو بھتیجے کو۔یہ تھے اخلاق اس میتیم کے ، یہ تھیں عادات اس نے باپ کے بچے کی۔پس اسے میمو ! اگر تمہارا باپ فوت ہو چکا ہے تو تم اس میتیم اعظم کے حالات پڑھو۔پھر اس کی روش اختیار کرو۔اور اس کے طریقہ پر چلو اور ویسی سعادتمندی پیدا کرو اور پھر دیکھو سب تم سے باپ کی طرح محبت کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔اور خدا نے تم سے ایک جسمانی باپ لیا تھا اس کے عوض ساری دنیا کے شریف آدمی تمہارے روحانی باپ بننے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں اور وہی لوگ جو تمہیں پوچھتے نہیں، تمہیں اپنی مجلسوں میں بیٹھنے نہیں دیتے ، تمہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تمہاری سدھری ہوئی عادتیں دیکھ کر ، تمہاری شرافت دیکھ کر تم ، کو سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور پیچ می تیم اس کے مصداق ہو جاؤ گے کہ الم يجذكَ يَتِيماً فادی یعنی کیا تم یتیم نہ تھے۔کیا تم کو لوگ اپنی مجلسوں سے نکال نہ دیتے تھے۔کیا تم کو حقارت سے نہ دیکھتے تھے پھر کیا تمہاری خوبیوں کی وجہ سے تمہاری شرافتوں کو دیکھکر ،تمہارے اوصاف کا مشاہدہ کر کے یہ نقشہ پلٹ نہیں گیا ؟ کیا تم لوگوں میں معزز نہیں ہوگئے۔کیا اب دنیا تمہاری قدر نہیں کرنے لگی؟ کیا تم باپ والوں سے بڑھ کر صاحب عظمت نہیں ہوئے ؟ ہو گئے اور ضرور ہو گئے اور یہ سب اس لئے ہوا کہ تم نے اپنی عادات کو درست رکھا۔خوبیوں میں ترقی کی ، لوگوں سے ادب سے پیش آئے۔تو دنیا کہنے لگی کہ کیہ سا شریف اور کیسا اچھا بچہ ہے۔پس دنیا کے یتیم بچوں کو چاہیے کہ اگر وہ قعر مذلت سے نکلنا چاہتے ہیں اور یتیمی کے نقصان کو دور کرنا چاہتے ہیں تو یتیم اعظم کے نمونہ کو اختیار کریں۔احادیث سے ثابت ہے اور تواریخ بھری پڑی میں ان واقعات ہے، کہ حضور یتیمی کے زمانے میں اور بچپن کے زمانے میں نہایت شہر میلے ، پورے راست باز انہایت کم گو کامل مناقب ، ماں، چچا اور