انقلابِ حقیقی — Page 38
۔انقلاب حقیقی کروڑوں آدمیوں کے دلوں پر منقش ہیں جس کی وجہ سے برہمن شودر کا جھگڑا اب تک ہندوستان میں چلا جاتا ہے۔یہ تہذیبی فلسفے بعض دفعہ مخلوط بھی ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں اور نئی چیزیں آملتی ہیں مگر اصلی فلسفہ کا نشان موجود رہتا ہے متا نہیں۔چنانچہ موجودہ زمانہ میں ہندوستان میں اسی قسم کا ایک تغییر رونما ہورہا ہے۔انگریزوں کی لمبی حکومت نے اور مغربی اقوام کی ترقی نے ہندوستان میں مغربیت کا پودا پیدا کر دیا ہے جو روز بروز جڑ پکڑتا جاتا ہے اور اس کی شاخیں چاروں طرف پھیلتی جاتی ہیں خصوصاً تعلیم یافتہ لوگوں میں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی مغربیت ہے وہ مغربیت کے رنگ میں پورے طور پر رنگین ہیں اور اُسی کی عینک سے ہر ھے کو دیکھتے ہیں۔آزادی کی تہذیب نے اس تہذیب کو ایک دھکا لگایا ہے مگر اُسی طرح جس طرح قدیم زمانہ میں ہوا کرتا تھا یعنی سطحی تغیرات کے ساتھ مغربی فلسفہ کو اپنالیا گیا ہے۔اگر آج انگریزی حکومت ہندوستان سے جاتی رہے تو بھی انگریزی حکومت کا طریق نہیں مٹ سکتا۔وہی کونسلیں ہونگی ، وہی پارلیمنٹیں ہونگی ، وہی دستور ہوگا اور کونسلوں کے سپیکروں کے سامنے جب بھی کوئی مشکل سوال آئے گا وہ یہی کہیں گے کہ میں گل تک غور کر کے جواب دونگا اور غور سے مُراد ان کی یہ ہوگی کہ مغربی پارلیمنوں کے دستور کو دیکھ کر نتیجہ نکالوں گا کہ مجھے اس موقع پر کیا فیصلہ کرنا چاہئے۔گویا یہ فقیر جو ہندوستان میں پیدا ہوگا ویساہی ہوگا جیسا کہ انگلستان میں مسٹر بالڈون (BALDWIN) کی جگہ مسٹر چیمبرلین (CHAMBERLAIN) نے لے لی ہے یا آئندہ ان کی جگہ شاید میجر ایٹلی (MAJOR ATTLEE) لے لیں۔ورنہ اگر کوئی نئی تہذیب اس عرصہ میں رونما نہ ہوئی تو مغربیت ہی یہاں حکومت کر رہی ہوگی گو اس کی شکل کسی قدر بدل گئی ہو۔گاندھی جی جو ایک فلسفہ کے موجد کہے جاتے ہیں وہ بھی باوجود زبانی مغربیت کے اثر کورڈ کرنے کے 38