انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 118

۔انقلاب حقیقی ترقی کی اور جن سے موجودہ مسلمان بھی ترقی کر سکتے ہیں۔مگر قرآن کو تو انہوں نے بند کر کے رکھ دیا ہے اور مغربیت کی طرف آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھ رہے ہیں جس طرح چڑیا کا بچہ بیٹھا ماں کی راہ تک رہا ہوتا ہے۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایران کے بادشاہ نے ایک دفعہ ہندوستان کے آم کی تعریف سنی اور اس کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ آم کھائے۔بادشاہ نے ہندوستان میں اپنا سفیر بھیجا کہ جا کر آم لے آؤ۔جب وہ یہاں پہنچا تو آم کا موسم نکل چکا تھا لیکن بادشاہ نے یہ خیال کر کے کہ یہ شاہ ایران کا سفیر ہے اور دُور سے آیا ہے دہلی اور اس کے گردونواح میں آم کی بڑی تلاش کرائی۔آخر اسی تلاش اور جد وجہد کے نتیجہ میں ایک بے موسم کا آم مل گیا مگر سخت کھتا اور ریشہ دار۔بادشاہ نے اُس سفیر کو بلا کر کہا کہ آم کی شکل آپ دیکھ لیں ایسی ہی شکل ہوتی ہے مگر ذائقہ بہت میٹھا ہوتا ہے۔یہ جو آم ملا ہے یہ کچھ اچھا نہیں لیکن چونکہ آپ نے اب واپس جانا ہے اس لئے ذرا اسے چکھ لیں تا آپ بادشاہ کے سامنے آم کی حقیقت بیان کر سکیں۔اُس نے چکھا تو سخت کھٹا اور بدمزا تھا۔جب وہ واپس گیا اور شاہ ایران نے اس سے آم کی کیفیت پوچھی تو اس نے کہا کہ مجھے ہندوستانیوں کی عقل کے متعلق شبہ پیدا ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا کیوں؟ اُس نے کہا وہ آم کی بڑی تعریف کرتے ہیں اور آپ نے بھی آم ہی کے لئے مجھے بھیجا تھا مگر میں جو آم چکھ کر آیا ہوں اُس کی کیفیت آپ اس چیز سے معلوم کر سکتے ہیں یہ کہہ کر اُس نے ایک پیالہ پیش کیا جس میں املی کا ریشہ اور تھوڑ اسا پانی پڑا ہوا تھا۔بادشاہ دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور اس نے کہا کہ ہیں ! ہندوستانی ایسی لغوھے کی اس قدر تعریف کرتے ہیں؟ یہی حال آج کل مسلمانوں کا ہے۔وہ قرآن کریم کے علوم سے بگلی بے بہرہ ہو گئے ہیں اور قرآن کریم ان کے لئے ایک مُردہ کتاب بن گیا ہے اور اب جو کچھ ان کے 118