انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 117

۔انقلاب حقیقی میں نقل کر لومگر ایک بات کا خیال رکھنا اور وہ یہ کہ اگر تم نے نیچے حوالہ دیدیا تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ علم عربوں سے لیا گیا ہے اور اس طرح اسلام کی عظمت ہمارے مذہب کے پیرؤوں کے دلوں میں بھی پیدا ہو جائے گی۔پس تم نقل بیشک کرو مگر حوالہ نہ دو تا لوگ یہ سمجھیں کہ یہ علم تم اپنی طرف سے بیان کر رہے ہو۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ یہ خط آج تک برٹش میوزیم میں موجود ہے۔اسی طرح پیرس میں ۱۹۴۰ء تک ابن رشد کا فلسفہ پڑھا یا جا تا تھا مگر نام میں ذرا سا تغیر کر دیا جاتا تھا تا لوگوں کو یہ پتہ نہ چلے کہ یہ کسی مسلمان کا فلسفہ ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ روم کی یو نیورسٹیوں میں ایک دفعہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ فلسفہ کی یہ کتاب نہ پڑھائی جائے بلکہ فلاں کتاب پڑھائی جائے کیونکہ اب فلسفہ ترقی کر چکا ہے تو پادریوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا اور کہا کہ یہ بے دینی ہے۔گویا ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد انہیں اتنا خیال بھی نہ رہا کہ وہ ایک مسلمان کی لکھی ہوئی کتاب ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ یہ کسی عیسائی کی کتاب ہے اور اگر اس کی جگہ اب کوئی اور فلسفہ پڑھایا گیا تو کفر ہو جائے گا۔ہمارے لوگ ناواقفی کی وجہ سے بالعموم یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ بات بھی عیسائیوں سے لی گئی ہے اور وہ بات بھی ، حالانکہ مسلمانوں نے بحیثیت قوم عیسائیوں سے کوئی بات نہیں لی مگر عیسائیوں نے مسلمانوں سے بحیثیت قوم علوم سیکھے ہیں لیکن مسلمان چونکہ اب ان تمام علوم کو بھلا بیٹھے ہیں اور عیسائیوں نے یاد کر لئے ہیں بلکہ ان میں زمانہ کی ترقی کے ساتھ ترقی ہوگئی ہے اور ان کی شکل بھی بدل گئی ہے، اس لئے مسلمان پہنچانتے نہیں ہیں اور اب تو غفلت کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں میں نہ دین باقی ہے نہ اخلاق، نہ تمدن باقی ہے نہ سیاست، نہ تہذیب باقی ہے نہ ثقافت ، بس مغربیت ہی مغربیت ہے جو ان کا اوڑھنا بچھونا بن رہی ہے حالانکہ وہ تمام باتیں قرآن کریم میں موجود ہیں جن سے پہلے مسلمانوں نے 117