انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 96

انقلاب حقیقی قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وبُشْرَى لِلْمُسْلِمِینَ لے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ خدا نے یہ کلام روح القدس کے ذریعہ سے نازل کیا ہے سچائی اور حق کے ساتھ۔تامؤ منوں کو یہ مضبوط کرے اور اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور بشارتیں ہیں۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ جو کہا تھا کہ شریعت لعنت ہے جس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ محض ظاہر کے پیچھے پڑ جانا اور باطنی اصلاح کو ترک کر دینا ایک لعنت ہے اس کے لحاظ سے قرآن کریم نے بھی فرمایا فَوَيْلٌ لِلْمُصَلَّيْنَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاءُ ونَ ے کہ لعنت ہے ان پر اور عذاب ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو نماز کی روح سے غافل ہیں اور نماز محض لوگوں کے دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں۔یہ وہی ڈیل کا لفظ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے زمانہ میں استعمال کرتے ہوئے کہا کہ محض ظاہر شریعت کی اتباع لعنت ہے۔آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز لعنت ہے یا روزہ لعنت ہے یا صدقہ لعنت ہے یا غریبوں اور مساکین کی خبر گیری کرنا لعنت ہے بلکہ آپ کا یہ مطلب تھا کہ ظاہر میں نیکی کے اعمال کرنا اور باطن میں ان اعمال کا کوئی اثر نہ ہونا ایک لعنت ہے۔مگر عیسائیوں نے غلطی سے اس کا یہ مطلب سمجھ لیا کہ نماز لعنت ہے روزه لعنت ہے۔اسی طرح فرمایا۔لن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا ولكن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ کے کہ ظاہری قربانیاں جو تم کرتے ہو وہ خدا تعالیٰ کو نہیں پہنچتیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کو وہ اخلاص پہنچتا ہے جس کے ماتحت قربانی کی جاتی ہے اور وہ محبت الہی پہنچتی ہے جو اس قربانی کی محرک ہوتی ہے یہی تعلیم ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام نے دی۔النحل: ١٠٣ الماعون: ۵ تا ۷ الحج: ۳۸ 96