انقلابِ حقیقی — Page 95
۔انقلاب حقیقی کہ میرے بھائی یا باپ کو بخار چڑھا ہوا ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گولفظی کلام اُترتا تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے الفاظ میں اسے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چونکہ ترقی اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور اب ایک ایسی شریعت نازل ہوئی تھی جو آخری اور جامع شریعت تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس وحی کے الفاظ بھی محفوظ رکھے جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان علينا جمْعَهُ وَتُرَانَهُ فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعَ تُرانہ لے کہ موسیٰ کے زمانہ میں تو کلام ہم نازل کرتے تھے اور پھر وہ اپنے الفاظ میں اس کلام کا مفہوم لکھ لیتا تھا اور گو مفہوم ہمارا ہی ہوتا تھا مگر الفاظ موسیٰ کے ہو جاتے تھے لیکن تیرے ساتھ ہمارا یہ طریق نہیں بلکہ اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارا کام ہے۔جو ہم کہیں وہی لفظ پڑھتے جانا اور پھر اُسے لکھ لینا اپنے پاس سے اس کا ترجمہ نہیں کرنا۔اسی طرح فرمایا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ انّا له لحفظون سے ہم نے ہی یہ قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کے لفظوں اور اس کی روح دونوں کے محافظ ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر داس کی حفاظت کا کام نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسوی کمالات پھر آپ میں عیسوی کمالات بھی پائے جاتے تھے۔عیسوی کمالات کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔وآید نه بروح القدیں کہ ہم نے اس کی روح القدس سے تائید فرمائی۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا القيمة: ۱۹،۱۸ الحجر : ١٠ 95