انقلابِ حقیقی — Page 93
۔انقلاب حقیقی اس کے بعد اب جو تعلیم تم پیش کر رہے ہو یہ جھوٹی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جھوٹی نہیں بلکہ پہلی کتابوں میں اس کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں اور اس کے ذریعہ سے وہ پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں اور اس میں تمام احکام موجود ہیں اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا موجب ہے۔پس جب کتاب کی خبر خود موسیٰ کی کتاب نے دی ہے وہ بے کار کس طرح ہو سکتی ہے۔یقینا اس میں زائد خوبیاں ہیں تبھی تو موسیٰ کی کتاب نے اس کی امید دلائی اور نہ موسیٰ کی کتاب کے بعد اس کی کیا ضرورت تھی۔(۲) پھر موسیٰ نے تو یہ کہا تھا کہ رت آرني انظر إليك، اور خدا تعالیٰ نے اس کا جو جواب دیا وہ اجمالی جواب ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنا آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دکھا دیا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ نہیں دکھایا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک موقع پر بھی خدا تعالیٰ سے یہ نہیں کہا کہ خدایا تو مجھے اپنا وجود دکھا بلکہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ ہم نے اسے اپنا چہرہ دکھا دیا۔پس موسیٰ علیہ السلام کے متعلق تو الله صرف ہمارا خیال ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا مگر رسول کریم ﷺ کے متعلق خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دَنَا فَتَدَتي فَكَانَ قَابَ قوسین او ادنی لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم اس طرح آمنے سامنے کھڑے ہو گئے جس طرح ایک کمان دوسری کمان کے مقابل پر کھڑی ہوتی ہے اور ان کا ہر سر ادوسرے سرے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔گویا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب ہوئے اور اتنے قریب ہوئے کہ جس طرح کمان کی دونو کیں آمنے سامنے ہوتی ہیں۔اسی طرح میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم آمنے سامنے ہو گئے اور ہم دونوں میں اتصال ہو گیا۔گویا جس امر کا موسیٰ نے مطالبہ کیا تھا، اس سے بڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خود ہی دکھا دیا۔النجم: ١٠٩ 93