انقلابِ حقیقی — Page 91
انقلاب حقیقی اس کا ثبوت بھی قرآن سے ہی ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ هَذِهِ سَبِيْلِي أَدْعُوْا إِلَى اللهِ فَ عَلَى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي ، وَ سُبْحَنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ والا نام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی آ گیا اور اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ تو دنیا سے کہہ دے کہ توحید کامل کے علمبر دار ہونے کا مقام مجھے بھی عطا ہوا ہے۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّنِي هَدَانِى رَبِّيُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِيناً قِيَماً مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفاً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۚ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا نے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دی ہے اس راستہ کی طرف جو ابراہیمی طریق ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔اس جگہ مشرک کے معنی عام مشرک کے نہیں ہیں بلکہ ایسے شخص کے ہیں جو اپنے دل و دماغ کی طاقتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگائے اور اسے پورا تو کل حاصل نہ ہو۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے طریق پر چلایا ہے تو سوال ہوسکتا تھا کہ ابراہیم نے تو اپنی تمام طاقتیں خدا تعالیٰ کے سپر د کر دی تھیں اور جب انہیں کہا گیا تھا کہ آسلیم تو انہوں نے کہہ دیا تھا اسلمت لرب العلمین کیا آپ نے بھی یہی کچھ کہا ہے ؟ تو فرماتا ہے کہ کہہ دے کہ وہی کام میں نے بھی کیا ہے اور میری نماز اور میرا ذبیحہ اور میری زندگی اور میری موت سب رب العلمین کے لئے ہو گئی ہیں اور میں اس طرح خدا تعالیٰ کا بن گیا ہوں کہ اب میرے ذہن کے کسی گوشہ میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا خیال باقی نہیں رہا۔غرض یہاں لا شريك له سے مُراد کامل توحید کا اقرار ہے اور آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تو کہہ دے کہ اس اعلی تعلیم پر چلنے کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا ہے۔یعنی میں ابرا ہیمی تعلیم پر يوسف : ۱۰۹ الانعام: ۱۶۲ تا ۱۶۴ 91