انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 52

انقلاب حقیقی کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔اس آیت میں آسمان وزمین سے مراد موسوی نظام ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب تک موسوی سلسلہ کا زمانہ ہے توریت کی تعلیم کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ہاں جب یہ سلسلہ مٹ جائے گا تب بیشک یہ تعلیم قابل عمل نہ رہے گی اور حقیقت بھی یہ ہے کہ قرآن کریم نے آکر توریت کی تعلیم کو منسوخ کر دیا اور توریت میں بھی لکھا ہے کہ موسیٰ کے بعد ایک اور شریعت آنے والی ہے۔چنانچہ استثنا باب ۱۸ آیت ۱۹۱۸ میں لکھا ہے۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گانہ سُنے گا تو میں اُس کا حساب اُس سے لوں گا ان آیات سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں :۔(۱) یہودیوں کے لئے ایک اور نبی مبعوث ہونے والا ہے کیونکہ لکھا ہے۔” میں ان کے لئے ایک نبی مبعوث کروں گا۔“ (۲) وہ موسیٰ کی طرح صاحب شریعت ہوگا۔کیونکہ لکھا ہے۔میں تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔“ (۳) وہ نبی بنو اسماعیل میں سے ہوگا نہ کہ بنو اسرائیل میں سے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ نبی ”ان کے بھائیوں میں نہ کہ ان میں سے۔متی باب ۵ آیت ۱۸۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء استثناء باب ۱۸ آیت ۱۹،۱۸۔نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء 52