انقلابِ حقیقی — Page 40
۔انقلاب حقیقی کیونکہ یہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے اور قانونِ قدرت خدا کا فعل ہے اس کو نظر انداز کر کے کامیابی نہیں ہو سکتی۔انقلاب کے معنی ہیں کسی چیز کا کلیہ بدل جانا۔اب اگر تم ایک پرانی عمارت کی جگہ پر نئی عمارت بنانا چاہو جس کا نقشہ بالکل نیا ہو تو ا ز ما تمہیں پہلی عمارت کو گرا دینا پڑے گا اور کوئی بیوقوف ہی ہوگا جونئی عمارت تو بنانا چاہے مگر پرانی عمارت کو توڑنے کیلئے تیار نہ ہو۔قرآن کریم نے بھی مذہبی ترقی کو اسی انقلابی طریق سے وابستہ قرار دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا نُرُسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمُ يَحْزَنُوْنَ - وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ کہ ہم دُنیا میں جب بھی کوئی رسول بھیجتے ہیں وہ ہمیشہ دنیا میں دو اعلان کرتا ہے۔ایک تو یہ کہ اس کی آمد سے پہلے جو نظام جاری تھا وہ اس کی موت کا اعلان کر دیتا ہے۔دوسرے یہ کہ وہ اپنے لائے ہوئے سسٹم کے متعلق غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلی شکل میں دُنیا میں قائم کیا جائے گا اور کسی اثر یاد باؤ کی وجہ سے یا کسی قوم سے سمجھوتہ کرنے کی غرض سے اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی۔ان اعلانات کے بعد جو لوگ تو اس جدید سسٹم کے تابع اپنے آپ کو کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کے رنگ میں ڈھال لیتے ہیں وہ تباہی سے بچ جاتے ہیں جو ایسا نہیں کرتے وہ آہستہ آہستہ مٹ جاتے ہیں۔اضلع کے معنی اپنے آپ کو کسی چیز کے مطابق بنا لینے کے ہیں۔پس عمل صالح کے یہ معنی ہیں کہ وہ عمل جو اس نئی تحریک کے مطابق ہوں۔عمل صالح کے معنی نیک عمل کے نہیں ہوتے جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں۔نیک کام اور عمل صالح میں فرق ہے۔الانعام: ۵۰،۴۹ 40