انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 41

۔انقلاب حقیقی مثلا نماز پڑھنا ایک نیک کام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص جہاد کے وقت نماز پڑھنا شروع کر دے تو ہم کہیں گے کہ اس نے عملِ صالح نہیں کیا۔یا روزہ ایک نیک عمل ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جہاد کے موقع پر بعض روزہ رکھنے والوں کے متعلق فرمایا کہ آج وہ لوگ جو بے روزہ تھے ثواب میں روزہ داروں سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان روزہ داروں نے ایسی حالت میں روزہ رکھا جب کہ روزہ نہ رکھنا حالات کے لحاظ سے زیادہ مناسب تھا۔غرض عملِ صالح عربی زبان میں مناسب حال فعل کو کہتے ہیں۔پس فَمَن أمن واصلح کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو لوگ رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے نمازیں پڑھیں اور روزے رکھے وہ ہلاکت سے بچ گئے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے انبیاء کی تعلیم کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا اور اس عمارت کی اینٹ بن گئے جس کی تعمیر وقت کے نبی کے ہاتھوں ہورہی ہوتی ہے ان کے لئے کوئی خوف اور کوئی محزن نہیں لیکن اس کے برخلاف جو لوگ اپنے آپ کو اس تعلیم کے مطابق نہیں بناتے اور نئی عمارت کا جزو بننے سے انکار کر دیتے ہیں۔يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اُترتا ہے اور بوسیدہ عمارت کی طرح انہیں تو ڑ کر رکھ دیتا ہے۔بعثت انبیاء کا مقصد اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو نبی بھی دُنیا میں آتا ہے وہ اسی لئے آتا ہے کہ اپنے سے پہلے نظام کو توڑ دے اور ایک نیا نظام قائم کرے اور اس کی آمد کے بعد وہی حیات کو پاتا ہے جو اس کے نظام کو قبول کرے۔یہ بات ہر نبی کی بعثت کے بعد ضرور ظاہر 41