انقلابِ حقیقی — Page 22
۔انقلاب حقیقی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض کسی نہ کسی رنگ میں اب تک بھی دنیا میں موجود ہیں اور بظاہر ان سے نفرت کرنے والے لوگ بھی حقیقتا ان کی غلامی کا جو اگر دنوں پر اُٹھائے کھڑے ہیں اور ان کے بعد میں آنے والی حکومتیں درحقیقت عمال کی تبدیلی کا ایک مظاہرہ تھیں ورنہ اصولِ حکومت وہی تھے جو ان مشہور تحریکات نے جاری کئے تھے۔بغاوت اس تہذیب کے آخری زمانہ کے علمبرداروں کے خلاف تھی اس تہذیب کے خلاف نہ تھی۔جو تبدیلی ہوئی وہ یہی تھی کہ اس تہذیب کا جھنڈا ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں آ گیا۔بعض دفعہ جھنڈے کا رنگ تھوڑا سا تبدیل کر دیا گیا۔بعض دفعہ جھنڈے کو زیادہ لمبا یا چھوٹا کر دیا گیا مگر حقیقت وہی رہی جو پہلے تھی۔رومن امپائر (ROMAN EMPIRE) کے بعد کے تغیرات جو مغرب میں ہوئے اگر دیکھا جائے تو رومن تہذیب کی تبدیل شدہ صورت ہی تھے اور ایرانی تہذیب کے بانیوں کے بعد کی حکومتوں میں صاف ابتدائی ایرانی تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔آرین بانیانِ تہذیب کے بعد بدھ جین وغیرہ کئی قسم کے لوگوں نے حکومتیں کیں لیکن آرین ٹھپہ سب کے دامن پر موجود تھا۔بابل کی حکومت کے بعد عرب، شام، مصر و غیرہ ممالک میں کئی حکومتیں تبدیل ہو ئیں ، کئی بغاوتیں ہوئیں لیکن بابلی اثر نہ مٹنا تھا نہ مٹا۔اب مغربی تہذیب دنیا پر غالب ہے۔ایشیا اور افریقہ اس کے جوئے سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے امریکہ کے دونوں بر اعظم کامیاب کوشش کر چکے ہیں۔جاپان ایشیا کے ایک طرف اور شر کی دوسری طرف کامیاب کوشش کر چکے ہیں لیکن نتیجہ کیا ہوا ہے؟ صرف حاکم بدلے ہیں حکومت نہیں بدلی بلکہ ترک اور جاپانی تو آزادی کے بعد مغربیت کے پہلے سے بھی زیادہ شکار ہو گئے ہیں۔آج ہندوستان آزادی کیلئے تڑپ رہا ہے، اس کے نو جوان اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے کھڑے ہیں تا اپنے ملک کو 22 22