انقلابِ حقیقی — Page 21
،انقلاب حقیقی یعنی پہلے نظام سے جدا گانہ حیثیت رکھتی تھیں اور نئے اصول پر قائم ہوئی تھیں۔اس قسم کی تحریکیں دنیا میں چند ہی گزری ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک تحریک جو ہندوستان میں اُٹھی آرین (ARIAN) کہلاتی ہے یعنی آریوں کی تحریک، یہ تحریک صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یورپ پر بھی اس کا اثر تھا۔دوسری تحریک جو مغرب میں اُٹھی رومن تحریک تھی۔تیسری تحریک جو وسط ایشیا اور چین میں پیدا ہوئی اس کا نام میں ایرانی تحریک رکھتا ہوں۔چوتھی تحریک جو مغربی ایشیا اور افریقہ میں پیدا ہوئی اس کا نام میں باہلی تحریک رکھتا ہوں۔اور پانچویں تحریک جو موجودہ زمانہ میں نہایت ہی عالمگیر ہے وہ ہے جسے مغربی تحریک کہتے ہیں۔دنیا کی معلومہ تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی پانچ تحریکیں مادیات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت مہتم بالشان اور عالمگیر تحریکیں گزری ہیں۔یعنی آرین تحریک، رومن تحریک، ایرانی تحریک، بابلی تحریک اور مغربی تحریک۔ان پانچوں تحریکوں کے پیچھے ایک نیا فلسفہ تھا اور ایک نئی تہذیب تھی۔صرف یہی نہیں تھا کہ بعض قوموں نے تلواریں پکڑیں اور چند ملک فتح کر لئے بلکہ ان تحریکات کے بانیوں نے اپنے سے پہلے نظام کو تہہ و بالا کر دیا اور ان کی جگہ ایک جدید تہذیب کی بنیاد ڈالی یا نئے علوم کا دروازہ کھولا اور گو ان نئی تحریکوں کے بانی کچھ عرصہ بعد سیاسی طور پر حکومت کھو بیٹھے اور ان کی جگہ دوسری قوموں نے لے لی مگر ان کو شکست دینے والے اور تباہ کرنے والے ان کے خیالات اور ان کے فلسفہ سے آزاد نہیں ہو سکے۔سیاسی غلامی جاتی رہی مگر ذہنی اور علمی غلامی قائم رہی اور حقیقی حکومت انہی کی رہی اور اسی فتح اور کامیابی کو پیغام جدید یا انقلاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔بظاہر آرین اور قدیم ایرانی اور رومن اور بابلی حکومتیں کچھ عرصہ کے بعد دُنیا سے مٹ گئیں 21