انقلابِ حقیقی — Page 20
۔انقلاب حقیقی بہر حال انقلاب کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ موجودہ نظام کوکسی اصلاح یا تبدیلی کے ساتھ قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ اس نظام کو کلی طور پر پھینک دیا جائے گا، تو ڑ دیا جائے گا، تباہ کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا۔جب یہ انقلاب دینی انقلاب ہو تو اسلامی اصطلاح میں اسے قیامت بھی کہتے ہیں اور اس کا ایک نام خلق السموت و الارض ! بھی ہے یعنی نئی زمین اور نیا آسمان بننا۔اور ایک نام اس کا السَّاعَةُ بھی ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے روحانی انقلاب کو کبھی قیامت کہا ہے کبھی السَّاعَةُ کے کے نام سے یاد کیا ہے اور کبھی نئی زمین اور نئے آسمان کے پیدا کئے جانے کے الفاظ سے اس کی حقیقت کو ظاہر کیا ہے۔دنیا میں جس قدر تبدیلیاں ہوئی ہیں یا کامیاب تحریکیں ہوئی ہیں ساری اسی رنگ میں ہوئی ہیں اور کوئی عالمگیر تحریک اور دیر تک رہنے والی تحریک ایسی نہیں جس میں دنیا کے لئے پیغام جدید نہ ہو اور جس میں انقلاب نہ ہو۔ارتقائی تحریکات عظیم الشان تحریکوں میں سے نہیں ہوتیں۔عظیم الشان تحریکیں جب بھی دنیا میں ہوئی ہیں انقلاب کے ذریعہ سے ہوئی ہیں اور اگر اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم کانگرس سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انقلاب زندہ باد۔لیکن اس سے ہماری مُراد اور ہوگی ان کی مُراداس لفظ سے اور ہوتی ہے۔پانچ عظیم الشان دُنیوی تحریکیں اگر دنیوی فتوحات کو دیکھیں تو فتوحات دنیوی کے لحاظ سے بھی وہی حکومتیں دنیا میں دیر تک رہی ہیں اور اُن کا اثر وسیع ہوا ہے جن میں کوئی نہ کوئی پیغام جدید اور انقلاب تھا۔البقرة: ۱۶۵ القمر : ۲ 20