انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 16

۔انقلاب حقیقی اشارہ ہے۔کولمبس نے ان روایات کو سنا تو اُس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اس سمندر کی طرف سے ہندوستان پہنچے مگر چونکہ اس سفر کیلئے روپیہ کی ضرورت تھی اور روپیہ کولمبس کے پاس تھا نہیں اس لئے اُس نے بادشاہ کے سامنے یہ سوال پیش کیا اور ملکہ کے پاس بھی بعض بڑے آدمیوں کی سفارش پہنچائی تا ملکہ بادشاہ پر اپنا اثر ڈالے۔ملکہ کو یہ تجویز پسند آئی، اُس نے خیال کیا کہ اگر اس مہم میں کامیابی ہوئی تو ہمارے ملک کو بہت فائدہ پہنچے گا۔پس اس نے بادشاہ کے پاس سفارش کرنے کا وعدہ کیا اور سفارش کی بھی لیکن جب بادشاہ نے اُمرائے دربار سے مشورہ کیا تو پوپ کے نمائندہ نے اس خیال کی سخت تضحیک کی اور اُس نے کہا کہ یہ خیال کہ زمین گول ہے سخت احمقانہ ہے بلکہ مذہب کے خلاف ہے اور ایسے احمق اور بیوقوف کو روپیہ دینا علم سے دشمنی ہے۔اُس نے ایک پر زور تقریر کے ذریعہ سے کولمبس کے خیال کی تغلیط کی اور بتایا کہ کولمبس یا خود پاگل ہے یا ہمیں پاگل بنانا چاہتا ہے۔اگر زمین گول ہے اور ہندوستان ہماری دنیا کے دوسری طرف ہے تو اس کے تو یہ معنی ہونگے کہ گترہ ارض کے دوسری طرف کے لوگ ہوا میں لٹک رہے ہیں۔پس کولمبس یہ کہہ کر کہ زمین گول ہے ہم سے یہ منوانا چاہتا ہے کہ دنیا کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جس میں بسنے والے لوگوں کی ٹانگیں اوپر ہیں اور سر نیچے ہیں۔اُس حصہ میں جو درخت اُگتے ہیں اُن کی جڑیں او پر ہوتی ہیں اور درخت ہوا میں لٹک رہے ہوتے ہیں اور بجائے اس کے کہ بارش او پر سے نیچے گرے اُس علاقہ میں نیچے سے اوپر کی طرف بارش گرتی ہے اور سورج زمین کے او پر نہیں ہے بلکہ اس علاقہ میں زمین کے نیچے نظر آتا ہے۔غرض اُس پادری نے اپنے جاہلانہ خیالات کو ایسی رنگ آمیزی سے بیان کیا کہ لوگوں کو یقین ہوگیا کہ کولمبس دھوکا باز شخص ہے اور دربار نے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا کہ اس شخص کی ہرگز مدد نہیں کرنی چاہئے اور کولمبس کا سفر ایک لمبے عرصہ تک کیلئے ملتوی ہو گیا۔آخر ملکہ 16