انقلابِ حقیقی — Page 106
۔انقلاب حقیقی صفات الہیہ کی مفصل تشریح چھٹے اسلامی تعلیم میں صفات الہیہ کی باریک در بار یک تشریح کی گئی ہے جس کے مقابل میں یہودی تعلیم بھی مات پڑ گئی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہودی کتب میں صفات الہیہ کا تفصیلی ذکر ہے مگر ان میں صفات الہیہ کا باہمی تعلق بہت کم بیان کیا گیا ہے۔میں نے ایک دفعہ تجسس کیا تو مجھے قرآن کریم میں کوئی ایسی صفت الہی معلوم نہ ہوئی جو یہودی کتب میں بیان نہ ہوئی ہو لیکن ایک بات جو صفات الہیہ کے باب میں یہودی کتب میں بھی نہیں پائی جاتی مگر قرآن میں پائی جاتی ہے یہ ہے کہ قرآن نے اس بات پر بحث کی ہے کہ مثلاً رحمانیت کا میدان کہاں سے شروع ہوتا ہے؟ رحیمیت کے دور کا کس جگہ سے آغاز ہوتا ہے اور ان تمام صفات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ مگر توریت نے اس پر بہت کم روشنی ڈالی ہے۔گویا صفات الہیہ کے مختلف اداروں کا جو باہمی تعلق ہے قرآن کریم میں اس کی تشریح بیان کی گئی ہے لیکن تو رات نے ان اداروں کا ذکر تو کر دیا ہے مگر ان کے باہمی تعلق کا ذکر نہیں کیا جس کی وجہ سے سالک ان سے پورا فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور یہ اُس (قرآن) کی فضیلت کا ایک بین ثبوت ہے۔مسائلِ معاد پر کامل روشنی پھر ایک بہت بڑی فضیلت جو قرآن کریم کو حاصل ہے یہ ہے کہ اس میں علم معاد پر علمی اور فلسفیانہ بحث کی گئی ہے جس سے یہودی لٹریچر بالکل خالی تھا۔حتی کہ ان میں قیامت کے منکرین کا زور تھا اور بہت تھوڑے تھے جو قیامت کے قائل تھے۔مگر قرآن کریم وہ پہلی کتاب ہے جس نے مسائل معاد کی ساری تفصیلات پر بحث کی ہے اور اتنی تفصیل 106