انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 107

انقلاب حقیقی سے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اب اگر کوئی جان بوجھ کر شرارت سے قیامت کا انکار کرے تو کرے ورنہ دلائل کے لحاظ سے وہ قیامت کا ہرگز انکار نہیں کر سکتا۔شرعی اصطلاحات کا قیام آٹھویں افضلیت قرآن کریم کو یہ حاصل ہے کہ اس میں شرعی اصطلاحات کا نیا دروازہ کھولا گیا جو اس سے پہلے بالکل مفقود تھا۔یعنی قرآن کریم سے پہلے جن باتوں کو مضامین میں ادا کیا جاتا تھا قرآن کریم نے ان کیلئے اصطلاحیں قائم کر دیں اور ایسی اصطلاحیں قائم کیں جو پہلے نہیں تھیں اور پھر ان اصطلاحوں کے ایسے معین معنی کئے جن میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔مثلاً قرآن کریم نے نبی کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس کی تعریف بھی بیان کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ نبی کب آتے ہیں ان کے پہچاننے کیلئے کیا نشانات ہوتے ہیں، ان کا کام کیا ہوتا ہے خدا تعالیٰ کا ان سے کیا معاملہ ہوتا ہے بندوں سے ان کا کیا تعلق ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ اور اسی قسم کی اور بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو قرآن کریم کے علاوہ اور کسی مذہبی کتاب نے بیان نہیں کیں اور یہ ایک ایسی زبر دست خوبی ہے جس کا دشمن بھی اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔پیغامیوں سے جب ہمارا مقابلہ زوروں پر تھا، اُن دنوں میں نے ایک دفعہ بڑے بڑے بشپوں ، سکھ گیانیوں، ہندؤوں کے پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں سے خط لکھ کر دریافت کیا کہ آپ کے مذہب میں نبی کی کیا تعریف ہے؟ تو بعض نے تو اس کا جواب ہی نہ دیا، بعض نے یہ جواب دیا کہ اس بارہ میں ہمارے مذہب میں کوئی خاص تعلیم نہیں۔چنانچہ ایک بڑے بشپ کا بھی یہ جواب آیا کہ اس مضمون پر ہماری کتب میں کوئی خاص روشنی نہیں ملتی۔اسی طرح ملائکہ کیا ہوتے ہیں، وہ کیا کام کرتے ہیں ان کے ذمہ کیا کیا فرائض ہیں؟ 107