انقلابِ حقیقی — Page 100
۔انقلاب حقیقی ، سلطنت کا وجود بعض مذاہب کیلئے ضروری ہے اب اگر کوئی کہے کہ بادشاہت کیونکر مذہبی لحاظ سے دینی نعمت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن مذاہب میں شریعت کا دائرہ سیاسیات اور تمدنی احکام تک وسیع ہوتا ہے ان کے لئے بادشاہت ضروری ہے۔اگر بادشاہت نہ ہو تو ان احکام دین کا اجراء کس طرح ہو جو سیاسیات اور تمدن وغیرہ سے متعلق ہیں۔پس یہاں بادشاہت سے مراد وہ بادشاہت نہیں جو دین سے خالی ہو وہ تو ایک لعنت ہوتی ہے۔یہاں بادشاہت سے مراد وہ بادشاہت ہے جو احکامِ شرعیہ کو جاری کرے جیسے داؤڑ کو بادشاہت ملی یا سلیمان کو بادشاہت ملی اور انہوں نے اپنے عمل سے شریعت کے سیاسی اور تمدنی احکام کا اجراء کر کے دکھا دیا۔پس جس شریعت کے دائرہ میں تمدنی اور سیاسی احکام ہوتے ہیں اسے لازماً ابتداء ہی میں بادشاہت بھی دی جاتی ہے کیونکہ اگر بادشاہت نہ دی جائے تو شریعت کے ایک حصہ کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو جائے۔چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خدا نے بادشاہت عطا فرما دی تھی ہمیں جب کسی مسئلہ میں شبہ پڑتا ہے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کس طرح کیا تھا۔اس طرح سنت ہماری مشکلات کو حل کر دیتی ہے لیکن اگر بادشاہت آپ کو حاصل نہ ہوتی تو سیاسی قضائی اور بہت سے تمدنی معاملات میں صرف آپ کی تعلیم موجود ہوتی ، آپ کے عمل سے اس کی صحیح تشریح ہمیں نہ معلوم ہو سکتی۔پس یہ بات ضروری ہے اور سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ایسی شریعت جو سیاست اور تمدن پر حاوی ہو اس کے ابتداء ہی میں بادشاہت حاصل ہو جائے۔پس جَعَلَكُمْ قُلُوعًا سے مراد وہی بادشاہت ہے جو احکام دین کے اجراء کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہے اور جس کا نفاذ بسا اوقات غیر ماً مور خلافت کے ذریعہ 100