انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 86

۔انقلاب حقیقی ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اس کی طرف کان دھر یو“۔لے اور پھر آخری کلام میں مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِداً عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا لے کہ محمد صلى الله علیہ وسلم جو کامل اور اکمل شریعت لائے ہیں یہ گو ہر لحاظ سے سابقہ الہامی کتب پر فضیلت رکھتی ہے مگر ظاہری تکمیل کے لحاظ سے اسے موسیٰ کی شریعت سے مشابہت ہے، دوسروں سے نہیں۔دوسروں کی کتابوں کی ایسی ہی مثال ہے جیسے متفرق کمرے بنے ہوئے ہوں اور موسیٰ کی شریعت کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک مکان ہو جس میں مختلف ضرورتوں کے لئے الگ الگ کمرے بنے ہوئے ہوں اور سب ضرورتوں کا اس میں مکمل انتظام موجود ہو۔اور گو قرآن کریم تاج محل کی طرح دوسرے سب مکانوں سے ممتاز ہے مگر مشابہت کے لحاظ سے اُسے مکان سے ہی مشابہت دی جاسکتی ہے، الگ الگ بنے ہوئے کمروں سے نہیں۔پس موسیٰ وہ پہلا نبی تھا جسے وہ کامل قانون ملا جو سب نظام پر حاوی تھا گو اعلیٰ تفصیلات کے لحاظ سے اس میں بھی نقص تھا۔تیسرا انقلاب بالمشافہ وحی الہی تیسرا انقلاب جو موسیٰ کے ذریعہ سے پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ موسیٰ کے زمانہ تک وحی الہی کا طریق بھی تبدیل ہوتا چلا گیا اور اب بالمشافہ وحی کا طریق جاری ہوا کیونکہ شریعت کی مجزئیات پر بحث ہوئی تھی اور اس کیلئے لفظی وحی کی ضرورت تھی تا کلام محفوظ رہے۔یہی وجہ ل استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء المزمل: ١٦ 86