انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 85

انقلاب حقیقی ابراہیم علیہ السلام یہ کہتے ہیں رب ادري كيف تُخيِ الموتى اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں رب ان انظر اليك ، وہ کہتے ہیں مجھے صفتِ احیاء کا نمونہ دکھا اور یہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنا سب کچھ دکھا۔دُنیا کا یہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی نبی آتا ہے تو لوگ اُسے تو جھوٹا سمجھتے ہیں مگر اس سے پہلے نبی کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور جب بعد میں آنے والے نبی کی بڑائی بیان کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کیا پہلے جاہل تھے ؟ کیا انہیں ان باتوں کا علم نہیں تھا ؟ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے تو یہودی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے، انہیں غصہ آیا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ ہمارا دا دا کم علم والا تھا اور تم اس سے زیادہ عرفان رکھتے ہو اس لئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔اگر تم سچے ہو تو ہمیں بھی خدا دکھاؤ۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا یمُوسى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً کہ اے موسیٰ ! ہم تیری اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں جب تک ہم خود بھی خدا کو نہ دیکھ لیں اس جگہ تو میت کے معنی ایمان لانے کے نہیں وہ تو پہلے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ظاہری ایمان رکھتے تھے۔کن تومن کے یہ معنی ہیں کہ یہ جو تو نے کہا ہے کہ میں نے خدا دیکھا اس میں تو جھوٹا ہے اور ہم تیری یہ بات ہرگز ماننے کیلئے تیار نہیں اور اگر ہمیں بھی دکھا دو تو خیر پھر مان لینگے۔یہی وہ انقلاب روحانی تھا جو چاروں گوشوں اور چاروں دیواروں کے لحاظ سے کامل تھا اور موسی" کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے کہا گیا کہ اس انقلاب روحانی کی آخری تحریک بھی موسیٰ کے نقش قدم پر ہوگی۔چنانچہ فرمایا: البقرة: ۵۶ 85