انقلابِ حقیقی — Page 84
۔انقلاب حقیقی کی ہو مگر تو رات نے بیان نہ کی ہو۔وہی رب رحمن، رحیم اور ملك يوم الدين وغيره صفات جو اسلام نے بیان کی ہیں وہی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیان کی تھیں۔غرض موسوی دور میں انسانی دماغ اس قابل ہو گیا تھا کہ وہ صفات الہیہ کے جو اعلیٰ ڈیپارٹمنٹ ہیں اُن کو سمجھ سکے۔گویا صفات الہیہ کا اجمالی علم تفصیل کی صورت میں تبدیل ہو گیا اور بندوں اور خدا میں اور بندوں اور بندوں میں تعلقات کی بہترین صورت پیدا ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ موسی وہ پہلے نبی ہیں جن کے بعد ایک لمبا سلسلہ نبیوں کا ایسا آیا جو کمی طور پر آپ کی شریعت کے تابع تھے، گو نبوت اُن کو براہ راست ملی تھی۔گویا جب انسان نے خدائی صفات کے ڈیپارٹمنٹ کو سمجھنے کی کوشش کی تو خدا تعالیٰ نے کہا۔اب تم بھی اپنے ڈیپارٹمنٹ بنالو کہ اب تم سے آئندہ ایک ظاہری حکومت چلے گی اور خلفاء آئیں گے جو حکومت کریں گے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام پہلے نبی تھے جن کے بعد ماً مورخلفاء لائے گئے اور آپ سے نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ چلایا گیا جنہیں گونبوت براہ راست ملتی تھی مگر موسوی شریعت کے وہ تابع ہوتے تھے۔اب اس وقت مذہب ایک با قاعدہ فلسفہ بن گیا جو انسانی زندگی کے سب شعبوں پر روشنی ڈالتا تھا۔گو یا شریعت کا محل بن کر چاروں طرف سے محفوظ ہو گیا۔یہی فلسفہ کا کمال تھا کہ ابراہیم نے جب صفات الہیہ کا باب پڑھا تو کہا رب ارِي كَيْفَ تُحْيِ الموتى ! خدایا! احیائے موتی کی صفت کا جلوہ مجھے دکھا۔مگر موسیٰ چونکہ ابراہیم سے بہت زیادہ صفاتِ الہیہ کا علم رکھتا تھا اس لئے اس نے کہا رت آرین انظر اليك لے کہ خدایا! تیری تمام صفات کا مجھے علم ہو چکا ہے اب یہی خواہش ہے کہ تو مجھے اپنا سارا وجود دکھا دے۔گویا ایک نے صرف ایک صفت کا جلوہ مانگا مگر دوسرے نے خود خدا کا دیدار کرنا چاہا۔حضرت البقرة: ٢٦١ الاعراف: ۱۴۴ 84