انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 79

انقلاب حقیقی جائے گا کہ جائیں اور مر جائیں اور اس موقع پر جب یہ سوال پیدا ہوگا کہ انسان کی قربانی جائز نہیں تو معایہ جواب بھی مل جائے گا کہ ادنی اعلیٰ کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے ، اعلیٰ ادنیٰ کے لئے قربان نہیں کیا جاتا۔گویا قربانی فلسفہ اور عقل کے ماتحت آ جائے گی۔اور بعض موقعوں پر اس قربانی کا پیش کرنا جائز بلکہ ضروری ہوگا اور بعض موقعوں پر نہیں۔پھر اس کے ساتھ ہی جب یہ خیال پیدا ہو گیا کہ انسان تمام مخلوق سے اعلیٰ ہے تو اسی خیال سے تصوف کا دور شروع ہو گیا اور انسان یہ سمجھنے لگا کہ میں اس لئے پیدا کیا گیا ہوں کہ اپنے خدا کی رضا حاصل کروں اور اس کا محبوب بنوں گویا ابراہیم سے تصوف کا دور شروع ہوا۔گو اس وقت صرف اس کی بنیاد پڑی اور ترقی بعد میں ہوئی۔اور یہ توجہ اس لئے پیدا ہوئی کہ جب فیصلہ کیا گیا کہ انسان قتل نہیں کیا جاسکتا اور اس کی بنیاد اس امر پر رکھی گئی کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا کا محبوب بنے تو ہر عقلمند شخص اس فکر میں پڑ گیا کہ وہ محبوبیت الہی کے مقام کو حاصل کرنے کے لئے کس طرح کوشش کرے اور اس طرح تصوف کی بنیاد پڑ گئی۔تمدن کامل کی بنیاد ابراہیم سے پڑی جب انسان کی قربانی رڈ کی گئی تو اس نے انسانی دماغ کو اس طرف بھی مائل کر دیا کہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے اور جب یہ خیال پیدا ہوا تو ساتھ ہی قانونِ قدرت پر بار یک در بار یک غور بھی شروع ہوا اور تمدن کے کمال کی طرف انسانی توجہ مائل ہو گئی۔پس تمدنِ انسانی کے کمال کا دور بھی حقیقی طور پر ابراہیم کے زمانہ میں شروع ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ اس دور سے پہلے انسان صرف ایک مُحِب کی شکل میں تھا اور اس کے ذہن میں محبوبیت کا خیال پیدا نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اس کی نامکمل ترقی کو دیکھتے ہوئے خوف کیا جاتا تھا کہ وہ سُست اور غافل نہ ہو جائے کیونکہ ابھی اس کا دماغ اس 79