انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 73

انقلاب حقیقی ظاہر ہونے لگا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو <mark>آدم</mark>ی معمولی تھے انہوں نے بعض <mark>آدم</mark>یوں کو خاص قابلیتوں کا مالک متصور کر لیا اور چونکہ علم النفس کا فلسفہ ابھی ظاہر نہ ہوا تھا اور علم کی کمی کی وجہ سے اس زمانہ کے لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ سب انسان ایک سے ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان میں سے اعلیٰ طاقتوں کا مالک ہے تو ضرور اُسے کوئی اور طاقت جو انسانیت سے بالا ہے حاصل ہے۔گناہ کی ترقی کس طرح ہوئی اس لئے ان لوگوں میں پہلا احساس شرک کا پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے میں سے بعض کو خدائی طاقتوں سے متصف خیال کر لیا اور یہ خیال کرنے لگ گئے کہ فلاں <mark>آدم</mark>ی جو اتنا قابل، اتنامد تبر ، اتنا سمجھدار اور اتنا عالم تھا وہ <mark>آدم</mark>ی نہیں بلکہ خدا تھا۔اگر <mark>آدم</mark>ی ہوتا تو اس کی قابلیتیں ہم سے زیادہ نہ ہوتیں اور اس طرح شرک کی ابتداء ہوئی۔جب مادۂ فکر کے ترقی کر جانے کے سبب سے ایک طرف تو شرک کی بیماری لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی اور دوسری طرف انسان میں وہ گناہ پیدا ہونے لگے جو تمدن کا لازمی نتیجہ ہیں اُس وقت اللہ تعالیٰ نے نوح کو بھیجا۔دور ثانی کا پیغام۔نزولِ شریعت گویا یہ تہذیب الہی کا دوسرا دور تھا جو نوح سے شروع ہوا۔نوح" اُس وقت آئے جب صفات الہیہ کا لوگوں کے دلوں میں احساس پیدا ہو گیا تھا اور صفات الہیہ کے احساس کے بعد ہی شریعت کا احساس پیدا ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نوح کے متعلق فرمایا کہ اَوَّلُ نَبِيِّ شَرَعَتْ عَلَى لِسَانِهِ الشَّرَائِعُ کہ نوح وہ پہلا 73