انقلابِ حقیقی — Page 71
انقلاب حقیقی اس آیت کے یہ معنی لئے ہیں کہ آدم ایسے مقام پر رکھا گیا تھا جہاں نہ بھوک لگتی تھی نہ پیاس حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اس میں دراصل بتایا یہ گیا ہے کہ اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کام مہیا کرے۔اگر کوئی کام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لئے خوراک مہیا کرے، پانیوں اور تالابوں کا انتظام کرے اور مکانوں کا انتظام کرے۔گویا کھانا، پانی مکان اور کپڑا یہ چاروں چیزیں حکومت کے ذمہ ہیں اور یہ چاروں باتیں اِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوْعَ فِيْهَا وَلَا تَعْرِى وَ أَنَّكَ لَا تَظْمُوا فِيْهَا وَلَا تَضْحَی لے میں بیان کی گئی ہیں۔کہ اے آدم! اگر لوگ اعتراض کریں تو تو انہیں کہدے کہ حکومت کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ تم بھوکے نہیں رہو گے۔چنانچہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ خواہ کوئی جنگل میں پڑا ہواس کے لئے کھانا مہیا کرے۔ولا تغری اور پھر تم نگے بھی نہیں رہو گے کیونکہ تمہارے کپڑوں کی بھی حکومت ذمہ وار ہو گی۔اسی طرح لا تظموا میں بتایا کہ حکومت تمہارے پانی کی بھی ذمہ وار ہے۔اور ولا تضحی میں بتایا کہ تمہارے لئے مکانات بھی مہیا کئے جائیں گے اور جس حکومت میں یہ چاروں باتیں ہوں وہ نہایت اعلیٰ درجہ کی مکمل امن والی حکومت ہوا کرتی ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ بیشک انفرادی آزادی پر پابندی گراں ہے لیکن تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ نظام کے لئے کچھ پابندیاں قبول کرو کیونکہ اس کے بغیر نہ بُھوک پیاس کا نہ لباس و مکان کا اور نہ دائگی امن یعنی جنت کا انتظام ہو سکتا ہے، پس یہ قیود خود تمہارے فائدہ کے لئے ہیں۔غرض آدم کے وقت تک انسان کا دماغ پورا نشو و نما نہیں پا چکا تھا اور گناہ بھی پورے ایجاد نہ ہوئے تھے سوائے چند ایک کے۔پس ان کے لئے کچھ احکام دے دیئے گئے اور وہ طه: ۱۲۰،۱۱۹ 71