انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 70

، انقلاب حقیقی سب لوگ ننگے پھر رہے ہیں۔میں یہ دیکھ کر پہلے تو شرم کے مارے زمین میں گڑ گیا مگر پھر میں نے دیکھا کہ ان کے چہروں پر اتنی معصومیت برس رہی ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔چنانچہ یہ دیکھتے ہی میرے خیالات بھی بدل گئے اور میں بھی کپڑے اُتار کر اُن میں شامل ہو غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ سے پہلی دفعہ نسلِ انسانی میں تمدن قائم کیا اور فرمایا کہ تم میں سے بعض خواہ ننگے پھرنے کے قائل ہوں مگر ہم انہیں تنگا نہیں پھرنے دینگے گویا انسانی حریت پر آدم نے بعض قیود لگا دیں اور اسے ایک قانون کا پابند کر دیا۔تمدنی حکومت کے فوائد آج آپ لوگ ان باتوں کو معمولی سمجھتے اور ان پر ہنستے ہیں مگر جب پہلے پہل آدم نے یہ باتیں لوگوں کے سامنے پیش کی ہوں گی تو میں سمجھتا ہوں اُس وقت خونریزیاں ہو گئی ہونگی اور قوموں کی تو میں آدم کے خلاف کھڑی ہوگئی ہونگی۔جب آدم نے انہیں کہا ہوگا کہ کپڑے پہنو تو کئی قبائل کھڑے ہو گئے ہونگے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہوگا کہ حریت ضمیر کی حفاظت میں کھڑے ہو جاؤ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آدم اور اس کے ساتھیوں کو وہ دلائل بھی سکھائے کہ کیوں نظام کی پابندی تمہارے لئے مفید ہو گی۔فرماتا ہے اے آدم! جب لوگ اعتراض کریں اور کہیں کہ اس تمدنی حکومت کا کیا فائدہ ہے؟ تو تم انہیں کہنا کہ اگر تم اس جنت نظام میں رہو گے تو بھو کے نہ رہو گے، ننگے نہ رہو گے، پیاسے نہ رہو گے اور دھوپ کی تکلیف نہ اُٹھاؤ گے اور یہی مذہبی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملکی بہبودی کے سامان کرے۔لوگوں نے غلطی سے قرآن کریم کی 70