انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 69

انقلاب حقیقی انہیں تہہ بند دے دیتے تھے اور کہتے تھے کہ تہہ بند پہن کر شہر جاسکتے ہو نگے نہیں جاسکتے۔اس پر وہ تہہ بند باندھ تو لیتے مگر ادھر ادھر دیکھتے بھی جاتے کہ کہیں کوئی حبشی ان کی اس بے حیائی کو تو نہیں دیکھ رہا اور جب وہ ایک دوسرے کو دیکھتے تو آنکھیں بند کر لیتے کہ ایسی بے حیائی ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔پھر جب شہر سے نکلتے تو جلدی سے تہہ بندا افسر کی طرف پھینک کر بھاگ جاتے۔بلکہ اب تو یورپ میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ننگے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ننگا رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔بلکہ ایک دفعہ تو اس بات پر لڑائی ہو گئی کہ وہ لوگ زور دیتے تھے کہ ہم ننگ دھڑنگ شہر میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور پولیس یہ کہتی کہ کپڑے پہن کر آؤ۔وہ کہتے تم ہوتے کون ہو جو ہماری آزادی میں دخل دیتے ہو؟ تم آنکھیں بند کر لو اور ہماری طرف نہ دیکھو۔مگر تم ہمیں مجبور کیوں کرتے ہو کہ ہم ضرور کپڑے پہنیں ؟ آخر جب جھگڑا بڑھا تو پولیس کو گولی چلانی پڑی۔یہ بھی یورپ کے تنزل کی ایک علامت ہے کہ اب وہاں کے ایک طبقہ کی دماغی طاقتیں بالکل کمزور ہوگئی ہیں۔یورپ میں بعض کلمہیں ایسی ہیں کہ ایسا شخص کسی صورت میں بھی ان کا ممبر نہیں بن سکتا جو کپڑے پہن کر نہاتا ہو کیونکہ ان کے نزدیک ابھی وہ شخص پورا مہذب نہیں ہوا۔میں نے اس کے متعلق ایک کتاب بھی پڑھی ہے جس میں ایک ڈاکٹر لکھتا ہے کہ میری بیٹی ننگے مذہب میں شامل ہو گئی۔مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری اور میں نے اس پر ختی کرنی شروع کر دی۔آخر ایک دن بیٹی نے مجھے کہا۔ابا ! ذرا چل کر دیکھو تو کہ جن کو آپ بد تہذیب کہتے ہیں وہ کتنے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ایک دن میری بیٹی مجھے زبر دستی اس سوسائٹی میں لے گئی۔جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ 59 69