انقلابِ حقیقی — Page 47
انقلاب حقیقی پشت ڈال چکی ہو اور اس کی خوبیوں سے غافل ہوگئی ہو پھر اس مُردہ قوم میں سے ایک حصہ کو زندہ کر کے اُس بُھلائی ہوئی تعلیم کی محبت اُس کے دل میں ڈال دے اور اس کے ذریعہ سے پھراسی تعلیم کی حکومت دُنیا میں قائم کر دے۔یقیناً یہ نہایت ہی مشکل کام ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت پر دلالت کرتا ہے اور اسی قدرت کے مزید اظہار کیلئے آیت کے آخر میں یہ مزید الفاظ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں کہ آلَمُ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کیا تمہیں علم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ایسا انقلاب نہایت آسانی سے پیدا کر سکتا ہے۔الساعة کے معنی غرض اولوالعزم انبیاء ایک قیامت ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے پرانی نسل مٹا دی جاتی اور ایک نئی نسل قائم کی جاتی ہے۔اور چونکہ وہ نیا نظام قائم کرتے ہیں ان کے زمانہ کو مذہبی اصطلاح میں یومِ قیامت بھی کہتے ہیں۔ان کے زمانہ میں یوم قیامت کی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔یعنی ایک دفعہ سب اہلِ زمانہ پر موت اور پھر دوسری دفعہ احیاء۔انبیاء کی بعثت کے ساتھ ہی پہلے تو دنیا پرموت طاری ہو جاتی ہے اور قرب الہی کے وہ تمام دروازے جو پہلے اس کے لئے کھلے تھے بند کر دئیے جاتے ہیں اور پھر اس کے زمانہ کے نبی کے ذریعہ سے نئے دروازے قرب الہی کے کھولے جاتے ہیں۔گویا پہلی عمارت کو وہ گرا دیتے ہیں اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔خواہ پہلی عمارت منسوخ شدہ شریعت کی ہو یا لوگوں کی خود ساختہ عمارت ہو جسے محفوظ شریعت کو متروک قرار دے کر لوگوں نے خود کھڑا کر لیا ہو۔اس زمانہ کو قرآنی اصطلاح میں السَّاعَة بھی کہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا 47