انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 46

۔۔انقلاب حقیقی اس آیت کے آخر میں یہ جو فرمایا ہے کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں۔ان الفاظ سے وہ معنی جو عام طور پر اس آیت کے کئے جاتے ہیں یعنی کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کا ذکر ہے رڈ ہو جاتے ہیں کیونکہ قرآنی آیات کے منسوخ ہونے سے قدرت الہی کے اظہار کا کوئی بھی تعلق نہیں۔قدرت کا مفہوم انہی معنوں میں پایا جاتا ہے جو میں نے کئے ہیں۔پھر یہ جو فرمایا ہے کہ الم تعلم ان اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اس میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ ہر کلام جب آئے یا جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے، وہ ایک انقلاب چاہتا ہے اور یہی امرلوگوں کے خیال میں ناممکن ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ ایسے انقلاب پر قادر ہے خواہ نئے کلام کے ذریعہ سے وہ انقلاب پیدا کر دے خواہ پرانے کلام ہی کو زندہ کر کے انقلاب پیدا کر دے۔یہ معنی جو میں نے کئے ہیں گو جدید ہیں لیکن آیت کے تمام ٹکڑوں کا حل انہی معنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔پہلے مفسر اس کے معنی یہ کیا کرتے تھے کہ قرآن میں بعض آیتیں اللہ تعالیٰ نازل کرتا اور پھر انہیں منسوخ کر دیتا ہے۔مخالف ان معنوں پر تمسخر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ وہ آیت نازل کر کے اسے منسوخ کیوں کرتا ہے؟ کیا اسے حکم نازل کرتے وقت یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ حکم لوگوں کے مناسب حال نہیں۔دوسرے نسخ سے تو اس کی کمزوری ثابت ہوتی ہے۔پھر اس کے ذکر کے بعد اس فقرہ کے کیا معنی ہیں کہ ان الله عَلى كُلِّ شَيءٍ قدیر مگر جو معنی میں نے کئے ہیں ان میں ایک زبر دست قدرت کا اظہار ہے یہ آسان کام نہیں کہ ایک ایسے قانون کو جولوگوں کے دلوں پر نقش فی الْحَجَرِ کی طرح جما ہوا ہو اور جسے چھوڑنے کیلئے وہ کسی صورت میں تیار نہ ہوں ، مٹا کر اس کی جگہ ایک نیا قانون قائم کر دیا جائے۔یا جب کہ ایک قوم مرگئی ہو اور الہی قانون کو پس 46