انقلابِ حقیقی — Page 45
۔انقلاب حقیقی اظہار کیلئے نات بغیر منقا کے الفاظ استعمال فرمائے۔(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ جب تعلیم تو قابل عمل ہو مگر لوگ اس پر عمل ترک کر دیں اور اپنے لئے خود ایسے قواعد تجویز کر لیں جو الہی تعلیم کے مخالف ہوں۔اس حالت میں نئی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پُرانی تعلیم کی حکومت کو ازسر نو قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے فرمایا آخر مثلما یعنی جب تعلیم اصلی حالت میں موجود ہو صرف لوگوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا ہو تو ہم پھر ویسی ہی تعلیم لے آتے ہیں یعنی اسی تعلیم کو دوبارہ قائم کر دیتے ہیں۔مثل کا لفظ خدا تعالیٰ نے اس لئے استعمال کیا ہے تا یہ بتائے کہ پہلی تعلیم چونکہ مر چکی ہوتی ہے اس لئے ہم اس میں نئی زندگی پیدا کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پہلی تعلیم کا مثل ہوتی ہے۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ پیغام الہی بھی ایک عرصہ کے بعد : (۱) یا قابل عمل نہیں رہتا۔(۲) یا لوگ اس پر عمل ترک کر دیتے ہیں۔قابل عمل نہ رہنا دو طرح ہوتا ہے:۔(1) لوگ اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں۔(۲) زمانہ کے مطابق تعلیم نہیں رہتی۔ان دونوں حالتوں کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی بھی دوسنتیں جاری ہیں۔جب کلام نا قابل عمل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اسے منسوخ کر دیتا ہے۔اور اس سے بہتر تعلیم بھیج دیتا ہے کیونکہ زمانہ ترقی کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔لیکن جب لوگ عمل ترک کر دیں لیکن تعلیم محفوظ ہو تو اللہ تعالیٰ اسی کلام کو ہرا دیتا ہے اور اُس کا مثل نازل کر دیتا ہے یعنی اس تعلیم میں ایک نئی زندگی ڈال دیتا ہے۔45