انقلابِ حقیقی — Page 33
۔انقلاب حقیقی اس لغو خیال کو فرعون کی طرف منسوب کیا ہے جس کی صداقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ فرعون کی نسبت فرماتا ہے کہ اس نے ہامان سے کہا کہ فَأَوْقِدْ لِيْ يَهَا مَنُ عَلَى الطَّيْنِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَّعَلِي اَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ یعنی فرعون کے سامنے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا دعویٰ پیش کیا تو فرعون نے اسے سُن کر اپنے انجنیئر ہامان کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ پھیر وں کو لگا دو اور ایسا اُونچامل بناؤ اور ایسی ایسی دور بینیں اور رصد گاہیں تیار کرو کہ ہم آسمان کے راز کھول کر رکھ دیں اور موسیٰ کے خدا کا سراغ نکال لیں۔اسی طرح سورۃ مومن میں آتا ہے۔وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَهَا مَنُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَتِي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ - أَسْبَابَ السَّمَواتِ فَاطَّلِعَ إِلَى إِلَهِ مُوْسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِباط ہے کہ فرعون نے اپنے انجینیئر ہامان سے کہا کہ ہمارے لئے ایک قلعہ بناؤ مگر وہ اتنا اونچا ہو کہ اس پر چڑھ کر ہم آسمان کے راز معلوم کر سکیں اور موسیٰ کے خدا کا پتہ لگالیں۔یہ مطلب نہیں کہ آسمان پر پہنچ جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اتنا بلند ہو کہ وہاں سے آسمان کا نظارہ آسانی سے ہو سکے۔وہاں ہم بڑی بھاری دُور بینیں لگائیں گے اور موسیٰ کے معبود کو دیکھیں گے اور آخر میں کہا کہ میں تو اسے بالکل جھوٹا سمجھتا ہوں۔یعنی کوئی یہ نہ خیال کرے کہ مجھے طبہ ہے کہ شاید جس خدا کا موسیٰ ذکر کرتا ہے وہ صحیح ہے تبھی تو میں ایک اونچا محل اس کی تلاش کیلئے بنانا چاہتا ہوں میرے اس حکم کی غرض شبہ نہیں بلکہ میری غرض موسیٰ کو جھوٹا ثابت کر کے دکھانا ہے۔اسی طرح عاد کے متعلق ایک اور آیت میں بھی ذکر آتا ہے کہ وہ بڑی بڑی اونچی القصص : ٣٩ المؤمن: ۳۸،۳۷ 33