انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 26

۔انقلاب حقیقی برہمن ہی تھا اور اب برہمنوں کو خوش کر کے شاید آئندہ زمانہ میں میں بھی برہمن بن جاؤں گا۔پس جس رتبہ کے حصول کی امید مجھے لگی ہوئی ہے میں اپنے ہاتھوں اس رتبہ کی عزت کم کر کے کیوں اپنی آئندہ ترقی کے امکانات کو کم کروں۔حقیقت یہ ہے کہ نسلی تفوق کی حفاظت کیلئے تناسخ کے مسئلہ کی ایجاد ایک اعلیٰ دماغ کا حیرت انگیز کارنامہ ہے اور اگر اس کی وجہ سے کروڑوں بنی نوع انسان کو ہزاروں سال کی غلامی میں مبتلا نہ کر دیا گیا ہوتا تو یقیناً اس قابل تھا کہ اس کی داد دی جاتی۔رومن تہذیب کی بنیاد قانون اور حقوق انسانی (۲) رومن تہذیب کی بنیاد قانون پر اور انسانی حقوق پر تھی۔چنانچہ اس تہذیب کے علمبرداروں نے اول اول انسانی حقوق کو تسلیم کیا اور ایسی بنیاد رکھی کہ اگر کسی کو کوئی سزا دینی ہو تو قانون کے ماتحت دی جائے۔اس طرح وہ سیاست کو قانون کے ماتحت لائے اور انہوں نے ایسے اصول بنائے جن سے ایک نظام کے ماتحت انسانوں پر حکومت کی جاسکے۔یہی وجہ ہے کہ رومن لا ءاب تک مغرب میں پڑھایا جاتا ہے اور اس کے اصول سے آج بھی قانون دان فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ایرانی تہذیب کا پیغام اخلاق و سیاست (۳) ایرانی تہذیب کی بنیا د اخلاق اور سیاست پر ہے۔اسی وجہ سے ان میں خدا تعالیٰ کے متعلق بھی یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کیلئے ممکن نہیں کہ وہ گناہ جیسی گندی شے کو پیدا کرے اس لئے دراصل دو خدا ہیں ایک نیکی کا اور ایک بدی کا۔گویا اخلاق کو انہوں نے اتنی اہمیت دی کہ ان کے لئے یہ امر نا قابل تسلیم ہو گیا کہ ایک غیر اخلاقی امر کی پیدائش اللہ 26