انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 27

۔انقلاب حقیقی تعالیٰ کی طرف منسوب کی جائے لیکن چونکہ گناہ دُنیا میں موجود تھا انہوں نے یہ فلسفہ ایجاد کیا کہ گناہ کا پیدا کرنے والا کوئی اور خدا ہونا چاہئے جو قابل پرستش نہیں بلکہ قابلِ نفرت ہو۔دوسرا فلسفہ جس پر ایرانی تہذیب کی بنیاد تھی تعاون با ہمی کا فلسفہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی تہذیب نے پہلے پہلے اُس خیال کی بنیاد رکھی جسے امپائر یا شہنشاہیت کہتے ہیں۔یعنی سے پہلے اسی نظام نے باہمی تعلق رکھنے والی آزادحکومتوں کے اصول کو ایجاد کیا اور اسے تکمیل تک پہنچایا۔در حقیقت یہ خیال بھی ثانویت کے عقیدہ کے نتیجہ میں پیدا ہو ا۔جب انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ دو خدا ہیں جو آزاد بھی ہیں لیکن پھر ایک دوسرے سے بڑا بھی ہے تو اس کے ماتحت انہوں نے دنیا میں بھی ایسا نظام ایجاد کیا کہ ایک بڑا بادشاہ ہو اور بعض اس سے چھوٹے بادشاہ ہوں جو آزاد بھی ہوں اور پھر ایک بالا طاقت کے ماتحت بھی ہوں، اور اسی عقیدہ سے شہنشاہیت کے خیال کو نشو و نما حاصل ہوئی۔ہندوستان یا دوسرے ممالک میں اس کی مثال نہیں پائی جاتی کہ ایک زبر دست بادشاہ ایک کمزور اور چھوٹے سے بادشاہ کی اس لئے اطاعت کرتا ہے کہ وہ کمزور بادشاہ اس کا شہنشاہ ہے۔یہ صرف ایرانی فلسفہ کی ایجاد ہے اور اس سے درحقیقت امن کے قیام کے لئے ایک نیا راستہ کھولا گیا ہے۔ایرانی تاریخ میں بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ اصل بادشاہ کمزور ہو گیا ہے اور ماتحت بادشاہ بہت طاقت پکڑ گئے ہیں لیکن شہنشاہ کی آواز پر سب امداد کیلئے موجود ہو گئے ہیں۔آج کی برطانوی امپائر اور آخری زمانہ کی خلافت عباسیہ در حقیقت اسی فلسفہ کی نقلیں تھیں اور خلافت عباسیہ کے آخری دور کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو اس کے وجود کی بنیاد اس امر پر تھی کہ در حقیقت اس کے تابع حکومتیں یا ایرانی تھیں یا ایرانی تہذیب کی خوشہ چیں تھیں اور 27