انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 157

انقلاب حقیقی جن کو میں نے بغیر تشریح کے چھوڑ دیا ہے۔ان کی تشریح کسی اور کتاب میں اگر اللہ تعالیٰ چاہے بیان ہو جائے گی۔اسی طرح میں علماء سے کتابیں لکھوانے کی بھی کوشش کروں گا۔البتہ دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اقرار کرنا آسان ہوتا ہے مگر عمل کرنا مشکل۔کئی لوگ ہیں جنہوں نے یہاں تو اقرار کیا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اپنی جائداد کا حصہ دیں گے مگر جب گھر پہنچ کر اس پر عمل کرنے لگیں گے تو بیٹے کہیں گے کہ ہمارے ابا اپنی جائداد بر باد کر رہے ہیں اور اس طرح تمہارے راستے میں کئی روکیں حائل ہوں گی پس تم اس وقت ایک پختہ عزم لے کر اُٹھو اور یاد رکھو کہ باتیں کرنا آسان ہوتی ہیں مگر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔اگر عمل کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو اس مسئلہ پر آپ نے پہلے ہی عمل کر لیا ہوتا کیونکہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں جو آپ لوگوں کے سامنے بیان کیا گیا بلکہ آپ اسے پہلے بھی جانتے تھے لیکن باوجود علم کے عمل نہیں کرتے۔پس جذبات کی رو میں جب چاروں طرف سے نعرے لگ رہے ہوں عہد کر لینا آسان ہوتا ہے اور کئی کمزور بھی اس عہد میں شامل ہو جاتے ہیں مگر جب کام کا وقت آتا ہے تو وہ بہانے بنانے لگ جاتے ہیں اور جماعت کے ان افسروں کو جو کام پر متعین ہوتے ہیں بدنام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پس میں جانتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں قسم قسم کے فساد پھیلیں گے اور لوگ افسروں کو بد نام کریں گئے انہیں شرارتی اور فسادی قرار دیں گے جیسے قادیان میں جب بعض لوگوں کو سزا دی جاتی ہے تو وہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں اور لوگوں کو یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے شریعت کی فلاں بے حرمتی کی تھی جس کی انہیں سزا ملی۔بلکہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں افسر کی ہم سے کوئی ذاتی عداوت تھی جس کے نتیجہ میں ہمیں یہ سزاملی۔اسی قسم کے واقعات باہر کی جماعتوں میں بھی رونما ہونگے۔157