انقلابِ حقیقی — Page 149
۔انقلاب حقیقی یقیناً ہمارے راستہ میں کوئی روک نہیں۔صرف لوگوں کی بے دینی ، ناواقفی اور سستی اس راہ میں حائل ہے۔یعنی کسی کے لئے سستی کسی کے لئے ناواقفی اور کسی کے لئے بے دینی اس مسئلہ پر عمل کرنے میں روک بنی ہوئی ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ آج ہی ہماری ساری جماعت یہ فیصلہ نہ کر لے کہ کل اس میں وہ بدی نہیں ہوگی۔وہ ایک قومی گناہ ہے جس کا ارتکاب کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے ملک میں زمینداروں میں بالعموم ورثہ کے مسئلہ پر عمل نہیں کیا جاتا۔آج پچاس سال جماعت احمدیہ کو قائم ہوئے گزر گئے ہیں مگر ابھی تک ہماری جماعت میں لڑکیوں کو اپنی جائدادوں میں سے وہ حصہ نہیں دیا جاتا جو خدا اور رسول نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ کہیں بھی اس پر عمل نہیں ہوتا خود ہم نے اپنی والدہ اور بہنوں کو ان کا حصہ دیا ہے اور جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔لیکن جماعت میں کثرت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس حکم پر عمل نہیں کرتے اور اپنی لڑکیوں، اپنی بہنوں، اپنی بیویوں اور اپنی ماؤں کو ورثہ میں وہ حصہ نہیں دیتے جو شریعت نے ان کے لئے مقرر کیا ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں اس مسئلہ پر عمل کرنے میں کیا روک ہے؟ سوائے اس کے کہ تم یہ کہو کہ ہمارے ہاں رواج نہیں۔اس کا اور کوئی جواب تم نہیں دے سکتے مگر کیا پچھلے تمام مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے رہے اور کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ آج یو پی کا ہر غیر احمدی تو اس پر عمل کرتا ہے اسی طرح صوبہ سرحد میں مسلمانوں نے اپنی مرضی سے ایسا قانون بنوایا ہے جس پر چل کر ہر شخص شریعت کے مطابق اپنی جائداد تقسیم کرنے کے لئے مجبور ہے مگر وہ احمدی جس کا یہ دعوی ہے کہ وہ اس زمین کو بدل کر ایک نئی زمین بنائے گا اور اس آسمان کو بدل کر ایک نیا آسمان بنائے گا وہ اپنی بیٹیوں، اپنی بہنوں ، اپنی بیویوں اور اپنی ماؤں کو وہ حصہ نہیں دیتا جو شرعاً انہیں ملنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں زمینداروں کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اس طرح ہماری پیدا کردہ جائداد دوسرے لوگوں کے قبضہ 149