انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 145

۔انقلاب حقیقی جائیں جو کہیں کہ یہ لوگوں کا رزق ماررہے ہیں، تو اسلام کا یہ حکم دنیا میں کس طرح قائم ہو سکتا ہے اور اگر ہم اس طرح ایک ایک کر کے لوگوں کو احکام کی اطاعت سے آزاد کرتے جائیں تو ہماری مثال اسی شخص کی سی ہوگی جس کی نسبت کہتے ہیں کہ کسی سے شیر کی تصویر بدن پر گدوانے گیا تھا۔جب وہ شیر گود نے لگا اور اس نے سوئی جسم میں داخل کی اور اسے درد ہوئی تو پوچھنے لگا کہ کیا گودنے لگے ہو؟ گودنے والے نے جواب دیا شیر کا دایاں کان۔اس پر اس نے پوچھا کہ اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو کیا شیر شیر رہتا ہے یا نہیں؟ گودنے والے نے کہا کہ رہتا تو ہے۔تو اس نے کہا کہ اچھا پھر اسے چھوڑ و آگے چلو۔پھر اس نے دوسرا کان گود نا چاہا تو اس پر بھی اسی طرح گفتگو کی اور اسی طرح ہر عضو پر کرتا گیا۔آخر گودنے والا کام چھوڑ کر بیٹھ گیا اور اس شخص نے حیرانی سے پوچھا کہ اپنا کام کیوں چھوڑ بیٹھے ہو؟ تو گودنے والے نے کہا اس لئے کہ اب شیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔اسی طرح اگر ہم بھی دیکھیں کہ لوگ اسلامی احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انہیں چھوڑتے جائیں تو اسلام کا اور جماعت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس ہمارا فرض ہے کہ جولوگ نصیحت سے اپنی اصلاح کرتے ہیں ان کی نصیحت سے اصلاح کریں اور جو لوگ نصیحت سے اصلاح نہیں کرتے انہیں مجبور کریں کہ یاوہ اپنے وجود سے احمدیت کو بدنام نہ کریں یا پھر تو بہ کر کے باقی جماعت کے ساتھ شامل ہو جائیں اور اس کام میں جماعت کو کامل تعاون کرنا چاہئے اور چاہئے کہ جماعت اس بارہ میں پوری اطاعت کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔خواہ انہیں اپنا باپ چھوڑنا پڑے یا بیوی چھوڑنی پڑے یا بیٹا چھوڑنا پڑے یا بھائی چھوڑ نا پڑے۔۳۔کتب تیسرے اس مقصد کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسی کتب لکھی جائیں جن 145