انقلابِ حقیقی — Page 136
۔انقلاب حقیقی ادنیٰ سے ادنیٰ اور معمولی سے معمولی عمل یہ ہے کہ اِماطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ۔یعنی راستہ کو صاف کیا جائے اور گندی اور تکلیف دہ اشیاء کو ہٹا دیا جائے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اسلام کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ تو حید پر ایمان لا نا، قضاء وقد ر پر ایمان لانا، انبیاء پر ایمان لانا، بعث بعد الموت پر ایمان لانا، جنت پر ایمان لانا، دوزخ پر ایمان لانا، قبولیت دعا پر ایمان لانا، تمام صفات الہیہ پر ایمان لانا۔پھر نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا، حج کرنا، زکوۃ دینا،صدقہ و خیرات دینا تعلیم حاصل کرنا اور تعلیم دینا، والدین کی خدمت کرنا، بنی نوع انسان کی بہبودی کے لئے جسمانی خدمات بجالا نا، غیرت دکھانا، شکر کرنا حسنِ ظنی سے کام لینا، بہادر بنا، بلند ہمت ہونا،صبر کرنا، رحم دل ہونا، وقار کا خیال رکھنا، جفاکش ہونا ، سادہ زندگی بسر کرنا، میانہ روی اختیار کرنا، عدل کرنا ، احسان کرنا ہی بننا، وفاداری دکھلانا، ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا، معاف کرنا، دوسروں کا ادب کرنا ، لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا، حکام کی اطاعت کرنا ، تربیت کرنا، دشمنانِ قوم سے اجتناب کرنا، محبت الہی پیدا کرنا، تو کل کرنا تبلیغ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، چغل خوری نہ کرنا، گالیاں نہ دینا، دھوکا بازی نہ کرنا، خیانت نہ کرنا ظلم نہ کرنا، فسادنہ کرنا، چوری نہ کرنا، بہتان نہ لگانا، تحقیر نہ کرنا، استہزاء نہ کرنا، بریکار نہ رہنا،سستی نہ کرنا، محنت اور عقل سے کام کرنا ، یہ اور اسی قسم کی ہزاروں باتیں ایمان کا حصہ ہیں یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ راہ چلتے ہوئے اگر کوئی پتھر دکھائی دے تو اسے راستہ سے اُٹھا کر الگ پھینک دو کوئی کنکر ہو تو اسے ہٹا دو۔پس یہ مت خیال کرو کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہہ کر یا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہ کریا امَنَّا بِالْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ کہہ کر یا نماز پڑھ کر یا روزہ رکھ کر تم مومن ہو جاتے ہو اور تم کو ایمان مل جاتا ہے۔ایمان نام ہے اسلام کے اعتقادات، مسائل، عبادات، تمدن، اقتصاد، قضا، سیاست، اخلاق اور معاشرت کو اپنے نفس اور دنیا میں جاری 136