انقلابِ حقیقی — Page 137
انقلاب حقیقی کرنے کا جس کا اعلیٰ حصہ لا الہ الا اللہ ہے اور ادنیٰ حصہ راستہ پر سے کانٹے ہٹانے کا ہے۔جس نے اس کے لئے کوشش نہ کی نہ وہ مؤمن ہوا اور نہ اس نے اسلام کے دین کو قائم کرنے کے لئے کوشش کی۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِن وَرَائِهِ کہ امام ڈھال کے طور پر ہوتا ہے اور تمہیں اس کے پیچھے ہو کر دشمن سے لڑائی کرنی چاہئے۔پس جب تک میں نے اعلان نہیں کیا تھا، لوگ بڑی حد تک آزاد سمجھے جا سکتے تھے لیکن اب وہی شخص جماعت کا فرد کہلا سکتا ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ امام کے پیچھے ہو کر اسلام کے لئے جنگ کرنے کے واسطے تیار ہو جائے۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داری پس میں اعلان کرتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور احیائے سنت و شریعت کے لئے سرگرم عمل ہو جائے۔جب تک میں نے اعلان نہ کیا تھا، لوگوں کے لئے کوئی گناہ نہیں تھا مگر اب جبکہ امام اعلان کرتا ہے کہ احیائے سنت و شریعت کا وقت آ گیا ہے کسی کو پیچھے رہنا جائز نہیں ہوگا اور اگر اب سستی ہوئی تو کبھی بھی کچھ نہ ہو گا۔آج گوصحابہ کی تعداد ہم میں قلیل رہ گئی ہے مگر پھر بھی یہ کام صحابہ کی زندگی میں ہی ہوسکتا ہے اور اگر صحابہ ندر ہے تو پھر یاد رکھو یہ کام کبھی نہیں ہوگا۔بخاری كتاب الجهاد باب يقاتل مِن وَرَاءِ الْإِمَام ويتقى به 137