انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 77

انقلاب حقیقی قربان ہے میری عقل ، میراعلم ، میرا ذہن سب تیرے احکام کے تابع ہیں اور میری ساری طاقتیں اور ساری قو تیں تیری راہ میں لگی ہوئی ہیں اسی لئے اس کی نسبت کہا گیا و ماکان من المُشرکین یہی وہ تو حید ہے جسے تو کل والی توحید کہتے ہیں۔اور در حقیقت توحید وہی ہوتی ہے جو تو گل والی ہو، جب انسان یہ کہنے لگے کہ میرے کام سب ختم ہیں۔اب میرا کھانا، پینا، میرا اُٹھنا بیٹھنا، میرا سونا، میرا جا گنا، میرا مرنا، میرا جینا سب خدا کے لئے ہوگا۔چنانچہ دیکھ لو اس کا فرق آگے کس طرح ظاہر ہوا۔نوع کو جب طوفان کے موقع پر بچنے کی ضرورت پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا کہ تو ایک کشتی بنا جس پر بیٹھ کر تو اور تیرے ساتھی طوفان سے محفوظ رہیں اور خدا نے اسے کشتی بنادی لیکن جب ابراہیم کو خدا نے کہا کہ جا اور اپنے بچے اسمعیل کو وادی غَیرَ ذِي زَرْعٍ میں پھینک آتو اس نے اسے کوئی ایسی ہدایت نہیں دی کہ ان کے کھانے اور پینے کے لئے اسے کیا انتظام کرنا چاہئے۔اس نے اسے بس اتنا حکم دے دیا کہ جا اور اپنی بیوی اور اپنے بچہ کو فلاں وادی میں چھوڑ آ۔چنانچہ وہ گیا اور ہاجرہ اور اسمعیل کو بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر چلا گیا اور اس نے یقین کیا کہ جو خدا انہیں گھر پر رزق دیتا تھا وہی انہیں اس جگہ بھی رزق بہم پہنچائے گا غرض ابراہیم نوح کی نسبت تو کل کے زیادہ اعلیٰ مقام پر تھے اور تو کل کامل کا مقام ہی توحید کامل کا مقام ہوتا ہے جو ابراہیم سے ظاہر ہوا۔ابراہیم کے ذریعہ سے تکمیل انسانیت اسی طرح تکمیل انسانیت بھی ابراہیم کے ذریعہ سے ہوئی اور دراصل تکمیل انسانیت اور تکمیل توحید لازم و ملزوم ہیں۔جب تک تو حید کی تکمیل نہ ہو انسانیت کی تکمیل نہیں ہو سکتی اور جب تک انسانیت کی تکمیل نہ ہو تو حید کی تعمیل نہیں ہو سکتی اسی لئے صوفیاء 77