انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 63

انقلاب حقیقی وہ کوئی ایسا فعل ہے جو خلیفہ بنانے کی اغراض میں شامل ہے۔گویا فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ آدم سے کوئی ایسا کام کروائے گا جو بظاہر فساد اور سفک دم نظر آتا ہے جس پر وہ تعجب کرتے ہیں کہ خدا کا خلیفہ اور فساد اور سفک دم کا مرتکب؟ یہ کیسی عجیب بات ہے؟ سوال کے ان پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دیکھو تو آدم کا جو مقام میں نے ظاہر کیا ہے اس کے ساتھ اس سوال کو پوری تطبیق حاصل ہے۔میں نے بتایا ہے کہ آدم جس کا ذکر سورہ بقرہ میں ہے نسلِ انسانی کا پہلا باپ نہیں بلکہ شریعت کے ادوار کے پہلے دور کا مؤسس ہے اور جیسا کہ قرآن سے استنباط کر کے میں نے بتایا ہے وہ دور دور تمدن تھا یعنی اُس دور میں پہلی دفعہ تمدن کو دنیا سے روشناس کرایا گیا تھا۔آدم سے پہلے انسان تمدن اور نظام کا جوا اپنی گردن پر اُٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا مگر اُس وقت چونکہ انسان میں یہ قابلیت پیدا ہو گئی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے اصلح وجود کو نبوت کا مقام دے کر دور تمدن کا بانی بنایا اس کے اجراء کا حکم دیا، اسی دور میں عورت اور مرد میں زوجیت کے اصول پر رشتہ اتحاد کا رواج ڈالا گیا۔ورنہ جیسا کہ ظاہر ہے چونکہ اس سے پہلے انسان میں حمد نی قواعد کی اطاعت کا مادہ نہ تھا اُس وقت تک ازدواج کے متعلق کوئی اصول مقرر نہ تھے۔تخلیق آدم پرفرشتوں کے سوال کی وجہ اس نکتہ کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد فرشتوں کے سوال کا مطلب واضح ہو جاتا ہے۔جب تک تمدنی نظام نہ ہو ہر قسم کا قتل اور غارت ایک بُرائی کا رنگ رکھتا ہے اور گناہ کہلاتا ہے لیکن جو نہی نظام حکومت قائم ہو بعض قسم کی لڑائیاں اور قتل جائز اور درست ہو جاتے ہیں۔مثلاً جو لوگ حکومت کی اطاعت نہ کرتے ہوں، ان کے خلاف جنگ جائز سمجھی 63 653