انقلابِ حقیقی — Page 55
انقلاب حقیقی تو امہ کے ساتھ ملا کر جو قیامت بعد از ممات کا دوسرا ثبوت ہے بیان کیا گیا ہے۔دو دلیلیں اس لئے دی گئی ہیں کہ معترضین مختلف زمانوں سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔پس ہر ایک زمانہ کے انسان کے لئے دلیل مہیا کر دی گئی تاہر ایک فائدہ اُٹھا سکے۔مثلاً مکہ والوں کے سامنے قیامت کی دلیل میں نفس تو امہ کو پیش کیا گیا ہے اور آخری زمانہ کے منکرین قیامت کے سامنے آخری زمانہ کے اس واقعہ کو جو قیامت گبرای سے مشابہت کی وجہ سے قیامت کہلانے کا مستحق ہے پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ اس کا مزید ثبوت اگلی آیات میں مہیا ہے اور وہ ثبوت مندرجہ ذیل آیات ہیں۔فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۔وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ جب انسانی نظر تیز ہو جائے گی یعنی مشاہدہ سے زیادہ کام لیا جانے لگے گا اور اسرار طبیعیت کا انکشاف کثرت سے ہوگا اور چاند کو گرہن لگے گا اور سورج کو بھی اس فعل میں اس کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا۔یعنی چاند گرہن کے بعد اُسی ماہ میں سورج کو بھی گرہن لگے گا اُس وقت انسان کہے گا کہ اب میں کہاں بھاگ کر جاسکتا ہوں؟ جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے ان آیات میں ایک ایسے زمانہ کی طرف اشارہ ہے جب انسان خدا سے بھاگ رہا ہو گا یعنی دہریت کی کثرت ہوگی اور قیامت کا انکارز وروں پر ہوگا اور علومِ ظاہری ترقی کر رہے ہو نگے اور انسانی نظر غوامض قدرت کے معلوم کرنے میں بہت تیز ہو جائے گی اور چاند اور سورج کوگر ہن ایک ہی ماہ میں لگے گا۔اس آخری علامت کے متعلق احادیث میں وضاحت موجود ہے جس سے اس زمانہ کی مزید تعیین ہو جاتی ہے اور وہ یہ حدیث ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی کے لئے ایک ایسا نشان ظاہر ہونے والا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی غوامض : غامض کی جمع چھپی ہوئی باتیں۔باریکیاں۔بھید 55