انقلابِ حقیقی — Page 154
۔انقلاب حقیقی ہے کہ وہ ان کی صفائی کی طرف توجہ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظافت کے متعلق اپنی امت کو جو احکام دیئے ہیں ، وہ اسی صورت میں عملی رنگ میں سرانجام دیئے جا سکتے ہیں جب ہم میں سے ہر چھوٹا بڑا اپنے ہاتھ سے کام کرنا عار نہ سمجھے اور صفائی میں مشغول رہے بلکہ جس گاؤں میں احمدیوں کی اکثریت ہوا سے دوسرے دیہات کے مقابلہ میں صفائی میں اس طرح ممتاز ہونا چاہئے کہ ایک اجنبی شخص بھی جب کسی ایسے گاؤں میں داخل ہو وہ اس کی صفائی اور نظافت کو دیکھتے ہی سمجھ لے کہ یہ احمدیوں کا گاؤں ہے۔۵۔احمدیوں کا دار القضاء پانچویں بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ سوائے ان مقدمات کے جن کو عدالت میں لے جانے کی مجبوری ہو اور جن کے متعلق قانون یہ کہتا ہو کہ انہیں عدالت میں لے جاؤ ، ہمارا کوئی جھگڑ اعدالت میں نہیں جانا چاہئے اور ان جھگڑوں کا شریعت کے ماتحت فیصلہ کرانا چاہئے اور اگر کوئی شخص اس حکم کو نہ مانے تو جماعت کو چاہئے کہ اسے سزا دے تاکہ اس کی اصلاح ہو اور اگر وہ سزا برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اسے الگ کر دیا جائے۔اس وقت صرف قادیان میں اس بات پر عمل ہوتا ہے مگر میں اب چاہتا ہوں کہ ہر جماعت میں پنچائتی بورڈ بن جائیں جو معاملات کا تصفیہ کیا کریں۔پس ہر احمدی کو اپنے دل میں ہی اقرار کرنا چاہئے کہ آئندہ وہ اپنا کوئی مقدمہ جس کے متعلق گورنمنٹ مجبور نہیں کرتی کہ اسے انگریزی عدالت میں لے جایا جائے عدالت میں نہیں لے جائے گا بلکہ اپنے عدالتی بورڈ اور اپنے قاضی سے شریعت کے مطابق اس کا فیصلہ کرائے گا اور جو بھی وہ فیصلہ کرے گا اسے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے گا اور گو اس حکم پر عمل کرانے سے جماعت کا ایک حصہ ضائع ہو جائے تو بھی اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔154