انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 140

انقلاب حقیقی يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَمُوتَ اَبَدًا وَاحْذَرُ حَذْرَامُرِيءٍ يَخْشَى أَنْ يَمُوتَ غَدًا كه جب تم دنیا کے کام کرو تو یاد رکھو اسلامی تعلیم اُس وقت یہ ہے کہ ایسی محنت اور ایسی چستی سے کرو گویا تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور کبھی مرناہی نہیں۔ہ نہ ہو کہ تم کہو کیا کام کرنا ہے مرتو جانا ہی ہے یا کیوں خواہ مخواہ محنت کریں انجام تو فنا ہی ہے۔فرماتا ہے دُنیا کے کام اس طرح نہیں بلکہ اس طرح کرو کہ گویا تمہیں موت کا خیال تک نہیں وَاحْذَرُ حَذْرَامُرِيُّ يَخْشَى أَنْ يَّمُوتَ غَدًا لیکن دین کے معاملہ میں اس طرح ڈرتے ڈرتے کام کرو گویا تم نے کل ہی مر جانا ہے۔یہ دو مقام ہیں جو تمہیں حاصل ہونے چاہئیں۔یعنی ایک طرف تم میں اتنی پستی اور اتنی پھر تی ہو کہ گویا تم نے کبھی مرنا ہی نہیں اور دوسری طرف اتنی خشیت ہو کہ گویا تم نے جینا ہی نہیں۔۶۔بنی نوع انسان کی خیر خواہی بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے متعلق فرماتے ہیں عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فَإِن لَّمْ يَجِدْ فَلْيَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ " کہ ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے اور اگر کوئی کہے کہ میں تو غریب ہوں میں کہاں سے چندہ دوں۔جیسے بعض لوگوں سے جب چندہ مانگا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم سے کیا چندہ لینا ہے ہمیں تو تم چندہ دو کیونکہ ہم غریب ہیں۔تو فرمایا فلیعمل بیدہ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ قومی کام اپنے ہاتھ سے کرے کیونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ بھی نہیں ہیں۔وہ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس روپے نہیں تو فرمایا اچھا اگر روپے نہیں تو اپنے ہاتھ سے کام کرو۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ صرف مالداروں پر ہی فرض نہیں کیا بلکہ غرباء کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے اور الجامع الصغير للسيوطى الجزء الاوّل صفحه ۴۱ مطبوعه مصر ۱۳۲۱هـ الجامع الصغير للسیوطی جلد ۲ صفحه ۵۲ مطبوعه مصر ۱۳۲۱هـ 140