انقلابِ حقیقی — Page 128
۔انقلاب حقیقی ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ملنا چاہتے ہو تو عملی رنگ میں کام کرو نہیں تو ہم سے الگ ہو جاؤ۔(۳) تیسرے جو لوگ نا واقعی سے یائستی سے شریعت کے خلاف چلیں ،ان کا بہت بُرا اثر دوسروں پر پڑتا ہے اور وہ ان کو دیکھ کر بعض دفعہ اسی کو اپنا دین سمجھ لیتے ہیں مثلاً اگر کوئی کامیاب تاجر ہو اور اس نے دین کے کسی مسئلہ پر عمل کرنے میں سستی کی ہو تو لوگ اس کی مثال دیکر کہنے لگ جاتے ہیں کہ اتنا بڑا آدمی ہو کر بھلا یہ دین میں سستی کر سکتا ہے؟ اور اس طرح اس کے غلط عمل کو دین سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ بالکل ممکن ہے ایک شخص بڑا تاجر ہو یا بڑا دولتمند ہولیکن دین کے معاملہ میں وہ بالکل جاہل ہو اور ایک فقیر اور کنگال شخص زیادہ دیندار اور زیادہ مسائلِ شرعیہ سے واقف ہو۔پس ایسے لوگوں کا دوسروں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے اور بعض دفعہ وہ انہی کی غلط باتوں کو دین سمجھنے لگ جاتے ہیں اور یا پھر بعض دفعہ یہ اثر قبول کرتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں حکم نہیں مانتا تو ہم کیوں مانیں؟ اور بعض بظاہر بڑے آدمیوں کی نقل ان کے اتباع کی دینی حالت کو بھی خراب کر دیتی ہے۔(۴) چوتھے جن کو واقفیت ہو اور وہ شریعت پر عمل بھی کرنا چاہیں، وہ بھی ایک حصہ احکام پر عمل کر نہیں سکتے جب تک نظام مکمل نہ ہو کیونکہ بعض احکام دو فریق سے متعلق ہوتے ہیں، ایک فریق عمل نہ کرے تو دوسرا بھی نہیں کر سکتا جیسے میں نے بتایا ہے کہ نماز با جماعت اسی وقت پڑھی جاسکتی ہے جب کم سے کم دو آدمی ہوں۔اگر ایک آدمی ہو اور وہ نماز باجماعت پڑھنے کی خواہش بھی رکھتا ہو تو اس وقت تک جماعت سے نماز نہیں پڑھ سکتا جب تک دوسرا آدمی اس کے ساتھ نماز پڑھنے کو تیار نہ ہو۔یا مثلاً ایک شخص کو روپیہ قرض لینے کی ضرورت پیش آ جائے اور وہ کسی سے مانگے تو اگر وہ دونوں مسلمان ہوں اور دونوں اس امر کے قائل ہوں کہ سود لینا اور دینا منع ہے ، تب وہ سود سے بچے رہیں گے لیکن اگر ان میں سے ایک شخص اس کا قائل نہیں تو وہ مثلاً سو یا دو سو روپیہ قرض دے کر کہہ دے کہ اس پر چار آ نہ سینکڑہ 128