انفاق فی سبیل اللہ — Page 43
انفاق في سبيل الله صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے کیا خوب فرمایا ہے: یه زر و مال تو دنیا ہی میں رہ جائیں گے حشر کے روز جو کام آئے وہ زر پیدا کر پس ہم میں سے کوئی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ دنیا کی دولت آخرت میں اس کے کام آئے گی۔عقلمند اور کامیاب وہ شخص ہے جو اس فانی دولت کو راہ خدا میں قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کی ابدی اور لازوال دولت خرید لیتا ہے اور اس وسوسہ میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا کہ مال خرچ کرنے سے دولت کم ہو جاتی ہے۔یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔حق یہ ہے کہ راہ خدا میں مال خرچ کرنے سے دولت کم نہیں ہوتی بلکہ بے انداز بڑھتی چلی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک فارسی شعر میں فرماتے ہیں: زبذل مال در راہش کسے مفلس نمی گردد خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے کبھی کوئی شخص غریب نہیں ہوتا۔اگر انسان اس راہ میں جوان مردی اور ہمت دکھائے تو خدا خود اُس کا معین و مددگار ہو جاتا ہے۔خدائے رحمان و رحیم کی جت نعیم کے ہر طلب گار کا فرض ہے کہ وہ صادق الوعد خدا کے وعدوں پر کامل یقین رکھتے ہوئے مالی قربانیوں کے سب میدانوں میں اس شان سے آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے کہ اسی زندگی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ خوش خبری سن لے کہ ( سورة الفجر 30-31) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي 43