انفاق فی سبیل اللہ — Page 37
انفاق في سبيل الله رضی اللہ عنہ کی تھی جن کے بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت صاحب کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی سخت ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں کو تحریک کی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔لنگر خانہ دو جگہوں پر ہو گیا ہے۔ایک قادیان میں اور ایک گورداسپور میں۔اس کے علاوہ مقدمہ پر خرچ ہورہا ہے۔لہذا دوست امداد کی طرف توجہ دیں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ تقریباً 450 روپے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت آپ کی خدمت میں بھیج دی۔ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتے۔تو انہوں نے کہا کہ خدا کا نبی کہتا ہے کہ دین کے لیے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں۔غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اور انہیں کہنا پڑا کہ اب ان کو قربانی کی ضرورت نہیں“ 37 (روز نامه الفضل 11 جنوری 1927)