انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 34 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 34

انفاق في سبيل الله سکتا۔قادیان جاتا ہوں تا کہ مہمان خانہ کی چار پائیاں بُن آؤں اور میرے سر سے چندہ اتر جائے۔“ (اصحاب احمد جلد 13 صفحہ 9) مال ہو تو اس کی طلب اور خواہش کے باوجود دینی ضروریات کو مقدم کرنا اور راہ خدا میں خرچ کرنا یقیناً بہت ہمت کی بات ہے اور ثواب عظیم کا موجب۔لیکن مالی تنگی کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرنا بلکہ اپنا سب کچھ پیش کر دینا واقعی صبر اور قربانی کا انتہائی بلند مقام ہے۔حضرت مسیح موعود کے ایک اور صحابی کی مثال پیش کرتا ہوں جن سے ملنے کی سعادت اس عاجز کو حاصل ہے۔حضرت بابو فقیر علی صاحب امرتسر میں تھے کہ حضور کی طرف سے چندہ لینے والے پہنچ گئے۔نقد رقم تو موجود نہ تھی۔آپ کے پاس اس وقت کنستر میں صرف آدھ سیر کے قریب آتا تھا۔آپ نے وہی پیش کر دیا اور وہ ساری رات آپ اور آپ کے اہل وعیال نے فاقہ سے گزار دی! ( الفضل 18 جنوری 1977ء) مالی قربانی کی عظمت کا معیار اس کی مقدار نہیں بلکہ وہ خلوص ، جذ بہ اور نیت ہے جس سے وہ قربانی پیش کی جاتی ہے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب مرحوم ایڈووکیٹ سرگودھا نے ایک احمدی سقہ (ماشکی) کا یہ واقعہ بار ہا جگہ جگہ بیان فرمایا کہ اس کا کام شہر کی نالیاں صاف 34