انفاق فی سبیل اللہ — Page 15
انفاق في سبيل الله راہ خدا میں خرچ کرنے اور اور اس کارِ خیر میں سنتی اور کاہلی سے بچنے کی پر زور تاکید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّنْ قبل أن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَهُ وَلَا شَفَاعَةٌ ، وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورۃ البقرہ آیت : 256) ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ کوئی تجارت ہو گی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی شفاعت۔اور کافر ہی ہیں جو ظلم کرنے والے ہیں“ اس جگہ یہ نکتہ یا در کھنے کے لائق ہے کہ راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ظالم قرار دیا ہے اور ظاہر بات ہے کہ آخرت میں ملنے والی فوز عظیم کے مقابل پر دنیا کی عارضی خوشی اور راحت کو مقدم کرنے والا انتہائی درجہ کا ظالم نہیں تو اور کیا ہے؟ احاديث نبوية : چند آیات قرآنیہ سے اکتساب فیض کے بعد آئیے اب ہم ان ارشادات سے برکت اور راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ہمارے محبوب آقا حضرت خاتم الانبیا محمد مصطف مے کے بیان فرمودہ ہیں۔آنحضور ﷺ ایسے امی نبی ہیں کہ آپ نے کسی انسان سے علم نہیں سیکھا، علیم و خبیر خدا خود آپ کا معلم تھا۔معلم حقیقی نے آپ کو وہ علوم و معارف سکھائے کہ آپ کل دنیا کے 15