امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 12
18 17 یہ تھے کہ :۔ا۔بتاؤ خدا سے پہلے کون تھا ؟ ۲۔بتاؤ خدا کا رُخ کدھر ہے؟۔بتا ؤ خدا اس وقت کیا کر رہا ہے؟ ย اللہ کے بندوں اور اہل علم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔آپ چاہتے تھے کہ جولوگ علم کی خدمت کرتے ہیں اور دین کو پھیلانا چاہتے ہیں انہیں کسی قسم کی کوئی مالی پریشانی نہ ہو تا کہ وہ اپنی ساری توجہ علم کی خدمت اور اشاعت دین پر صرف کر سکیں۔نہ صرف عالم لوگوں بلکہ عام لوگوں کی بھی بہت مدد کیا کرتے تھے۔اس کے سوال سن کر سب خاموش ہو گئے۔امام صاحب آگے بڑھے اور فرمایا: ان بچو! ایک آدمی بیچارہ بہت غریب تھا۔اس کی بیوی اس سے بہت لڑتی کہ ہماری لڑکی سوالوں کے جواب میں دوں گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ آپ منبر سے نیچے اتر آئیں۔وہ آدمی بھی اب بڑی ہوگئی ہے اس کی شادی بھی کرنی ہے۔گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔تم نیچے اُتر آیا اور امام صاحب اس کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے۔رومی نے پہلا سوال کیا۔بتاؤ امام صاحب کے پاس جاؤ۔وہ ضرور ہماری مدد کریں گے۔اب وہ آدمی امام صاحب کی خدا سے پہلے کون تھا؟ امام صاحب نے اس سے کہا۔گنتی گنو۔رومی نے گننا شروع کیا۔مجلس میں آتو گیا مگر شرم کی وجہ سے کچھ کہہ نہ سکا۔امام صاحب اس کی حالت دیکھ کر اس کی امام صاحب نے اسے روک دیا اور کہا ایک سے پہلے گنو۔رومی بہت پریشان ہوا کہنے لگا پریشانی سمجھ گئے۔جب وہ شخص چلا گیا تو اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا۔رات کے وقت دروازہ ایک سے پہلے تو کوئی گنتی نہیں ہے۔امام صاحب نے فرمایا: بس خدا سے پہلے بھی کوئی نہیں میں سے پانچ ہزار درہم کی ایک تھیلی اس کے گھر میں ڈال آئے اور تھیلی میں ایک پر چہ لکھ کر ہے۔پھر رومی نے دوسرا سوال کیا۔بتاؤ خدا کا رُخ کدھر ہے؟ امام صاحب نے ایک موم رکھ دیا کہ جب یہ پیسے ختم ہو جائیں تو بتا دینا۔بتی جلائی اور روحی سے پوچھا: بتاؤ اس کی روشنی کا رُخ کدھر ہے؟ رومی کہنے لگا: سب طرف آپ کی تجارت بہت پھیلی ہوئی تھی مگر آپ اپنی تجارت اور لین دین میں ہمیشہ ہے۔امام صاحب نے فرمایا: اسی طرح خدا کا رُخ بھی سب طرف ہے۔اس کے بعد فرمایا: دیانتداری کا خیال رکھتے تھے۔اکثر اپنی دیانت داری کی وجہ سے آپ کو نقصان بھی اٹھانا تمہارے تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس وقت یہ کر رہا ہے کہ اس نے تمہیں پڑتا تھا مگر آپ کو اس کی ذرہ بھی پرواہ نہیں تھی۔منبر سے نیچے اُتار دیا اور مجھے اوپر چڑھا دیا ہے۔بچو! رومی یہ سن کر بہت شرمندہ ہوا اور واپس چلا گیا۔ایک دفعہ آپ نے حفص بن عبد الرحمن کے پاس ریشم کے تھان بھیجے اور یہ بھی بتادیا کہ فلاں تھان میں عیب ہے اس لیے جو کوئی بھی اسے خریدے اسے بتا دینا۔حفص کو اس بات کا بچو! اپنی ذہانت اور علم کی وجہ سے امام صاحب نے کبھی بھی اپنے آپ کو دوسرے دھیان نہ رہا۔جب امام صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کو بہت افسوس ہوا اور تھانوں لوگوں سے بڑا نہیں سمجھا۔بلکہ ہمیشہ یہ سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور ہمیشہ لوگوں کے کی قیمت جو 30 ہزار درہم تھی ، آج کل کے حساب سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتے ہیں، سب ساتھ مل جل کر رہتے۔غریبوں کی مدد کرتے۔ان لوگوں کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے خیرات کر دی۔جنہیں علم حاصل کرنے کا شوق ہو۔آپ کو اپنی تجارت سے جو بھی نفع حاصل ہوتا اس سے آپ اپنے پڑوسیوں کا بھی بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔آپ کی گلی میں ایک موچی