امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 7
8 7 سے بہت محبت کرتے تھے ایک بار امام حماد سفر پر گئے۔کچھ دن بعد واپس آئے تو آپ کے محترم امام حماد کے سکول میں ہی درس دینے لگے۔صاحبزادے اسمعیل نے آپ سے پوچھا: ابا جان! آپ کو سب سے زیادہ کس کو دیکھنے کا جب امام اعظم نے درس دینا شروع کیا تو ایک دن خواب میں دیکھا کہ وہ آنحضرت شوق تھا؟ انہوں نے فرمایا: ابوحنیفہ کو دیکھنے کا۔اگر یہ ہوسکتا کہ میں کبھی نگاہ ان کے چہرے صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کھود رہے ہیں اور آپ کی مبارک اور پاک ہڈیوں کو جمع سے نہ ہٹاؤں تو یہی کرتا۔امام ابوحنیفہ سے محبت اور ان کے علم و ذہانت کی وجہ سے ایک بار کر رہے ہیں۔امام اعظم اس خواب کو دیکھ کر ڈر گئے اور سمجھنے لگے کہ شاید میں درس دینے جب امام حماد سفر پر روانہ ہوئے تو اپنی جگہ امام ابو حنیفہ کو بٹھا گئے۔کے قابل نہیں ہوں۔آپ نے امام ابن سیرین جو کہ خوابوں کی تعبیر کا علم جانتے تھے اور اس کوفہ میں حضرت امام ابو حنیفہ نے امام حماد سے فقہ اور حدیث کا علم سیکھا۔لیکن ان علم میں امام اور استاد تھے ان سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ: - کا خیال تھا کہ اب مجھے مکہ معظمہ جانا چاہیے اس لیے کہ وہ تمام مذہبی علوم کا اصل مرکز ہے۔چنانچہ آپ مکہ معظمہ پہنچے اور مزید علم حاصل کرنے کے لیے عطاء بن ابی رباح کی اس خواب کو دیکھنے والا شخص مردہ علم کو زندہ کرے گا۔“ جب آپ کو خواب کی تعبیر معلوم ہو گئی تو آپ اطمینان کے ساتھ درس دینے میں مشغول درسگاہ کا انتخاب کیا۔عطاء بن ابی رباح مشہور تابعین میں سے تھے۔تابعین سے مراد وہ ہو گئے۔شروع شروع میں تو صرف امام حماد کے شاگرد درس میں شامل ہوتے تھے۔لیکن لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام کا زمانہ پایا ہو اور ان سے ملاقات کی ہو۔یہاں پر چند دنوں میں ہی آپ کی شہرت اتنی زیادہ ہو گئی کہ کوفہ میں موجود ا کثر دوسری درسگاہیں بھی بھی آپ نے اپنے علم اور ذہانت کی وجہ سے جلد ہی استاد محترم کے دل میں اپنے لیے محبت ٹوٹ کر آپ کے حلقہ درس میں شامل ہوگئیں۔دُور دراز کے مقامات سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے آپ کی درس گاہ میں آنے لگے۔ان مقامات میں مکہ ، مدینہ، دمشق ، بصرہ، پیدا کر لی۔یہ تو امام صاحب کے بچپن اور ان کی تعلیمی زندگی کا مختصر حال تھا۔چلواب دیکھتے ہیں کہ رمله، یمن، مصر، بحرین، بغداد، همدان، بخارا، سمرقند وغیرہ کے طالبعلم شامل تھے۔امام اعظم نے علم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی کس طرح بسر کی۔امام ابوحنیفہ کے زمانہ میں بنوامیہ کی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور عباسی حکومت قائم امام صاحب کو اپنے استاد امام حماد سے بہت محبت تھی اس لیے ان کی زندگی میں آپ ہو گئی۔عباسی خاندان کا پہلا حاکم ابو العباس عبد اللہ تھا۔وہ اس قدر ظالم تھا کہ لوگ اسے نے یہ گوارہ نہ کیا کہ اپنا الگ سکول قائم کریں۔امام صاحب کی اپنے استاد محترم کے ساتھ سفاح یعنی خوشی کہنے لگے۔اُس نے گل چار سال حکومت کی۔132ھ میں اس کا بھائی محبت کا اندازہ تم اس بات سے لگا سکتے ہو کہ جب تک امام حماد زندہ رہے حضرت ابو حنیفہ نے ابو جعفر المنصور تخت حکومت پر بیٹھا۔ان کے مکان کی طرف کبھی پاؤں نہیں پھیلائے۔120ھ میں امام حماد کا انتقال ہو گیا امام یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام کی تعلیم عرب سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل رہی تھی مگر جو لوگ حماد کے انتقال کے بعد لوگوں نے امام صاحب سے درخواست کی کہ اب آپ درس دیا اسلام کے دشمن تھے وہ تو اسلام کی ترقی دیکھ ہی نہیں سکتے تھے نا! اس لیے انہوں نے نئے نئے کریں۔آپ نے شروع میں تو انکار کیا مگر جب لوگوں کا اصرار بڑھ گیا تو آپ اپنے استاد عقیدے بنانا شروع کر دیے اور تو اور وہ حدیثیں بھی اپنی طرف سے ہی بنا لیتے تھے۔حاکم